صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 494 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 494

صحيح البخاری جلدم ۴۹۴ ٤٦- كتاب المظالم أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيْ عَنْ أَبِي صَالِحٍ کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سکھی سے ہمی نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک بار کوئی شخص راستے میں چلا جارہا تھا۔اُس نے کانٹوں والی شاخ راستہ میں پائی اور اٹھا کر دور پھینک دی۔اللہ تعالیٰ نے اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور اس کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس کے گناہوں سے درگذر کیا۔بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيْقِ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَذَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ۔طرفه: ٦٥٢۔تشریح : مَنْ أَخَذَ الْعُصْنَ وَمَا يُؤْذِي النَّاسَ فِي الطَّرِيقِ فَرَمَى بِهِ: اس تعلق میں کتاب المظالم باب ۲۴ بھی دیکھئے۔عنوان باب ایک وضاحت کی غرض سے قائم کیا گیا ہے۔مندرجہ روایت میں صرف یہ ذکر ہے کہ را بگذر نے کانٹوں والی شاخ اٹھائی۔الفاظ فَرَمَى بِهِ عنوان باب میں زائد کر کے بتایا ہے کہ محض اٹھا لینا مراد نہیں بلکہ اس کا ایسی جگہ پھینکنا مراد ہے جہاں لوگوں کے لئے ایذاء رساں نہ ہو اور یہ فعل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر ہے۔انسان کا بلند کردار چھوٹی چھوٹی باتوں ہی سے بنتا ہے جو شخص لوگوں کی بھلائی معمولی باتوں میں نظر انداز کرتا ہے۔جن میں نہ اس کا کوئی وقت خرچ ہوتا ہے اور نہ کوفت اٹھانی پڑتی ہے، وہ معاشرے کا مفید رکن نہیں۔ایسے مواقع کی موجودگی میں جو انسان اپنے محلے داروں یا شہر والوں کے حقوق کا پاس رکھتا ہو اُس کے متعلق سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا مالک ہے کہ باوجود روکیں پیدا ہونے کے وہ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کے مواقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرہ اسلامیہ کے افراد کی تربیت میں چھوٹی چھوٹی بھلائیوں کی بھی تلقین فرمائی ہے۔ایک شخص راستے سے تو فائدہ اٹھاتا ہے مگر اس کا ادنی ساحق ادا نہیں کرتا۔امام بخاری نے اس کی یہ کوتاہی بھی مظالم میں شمار کی ہے۔باب ۲۹ : إِذَا اخْتَلَفُوْا فِي الطَّرِيقِ الْمِيْتَاءِ وَهِيَ الرَّحْبَةُ تَكُوْنُ بَيْنَ الطَّرِيْقِ ثُمَّ يُريدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فَتَرِكَ مِنْهَا لِلطَّرِيقِ سَبْعَةُ أَذْرُع اگر شارع عام میں اختلاف ہو اور وسیع جگہ ہو اور وہاں کے رہنے والے عمارت بنانا چاہیں تو اس میں سے راستے کے لئے سات ہاتھ جگہ چھوڑ دیں ٢٤٧٣ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ :۲۴۷۳ موسی بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جریر إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا جَرِيْرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ بن حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زبیر بن خریت الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ عَنْ عِكْرِمَةَ سَمِعْتُ سے، زبیر نے عکرمہ سے روایت کی۔(انہوں نے کہا : )