صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 491 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 491

صحيح البخاري - جلدم ۴۹۱ ٤٦- كتاب المظالم أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيْ فَإِنِّي أُريدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ متعلق اپنے ماں باپ سے مشورہ لوں؟ میں تو اللہ اور وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ثُمَّ خَيْرَ نِسَاءَهُ فَقُلْنَ اُس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہوں۔اس کے مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ۔بعد پھر آپ نے اپنی دوسری عورتوں کو بھی اختیار دیا اور انہوں نے بھی وہی کہا جو حضرت عائشہ نے کہا تھا۔اطرافه ،۸۹ ٤۹۱۳، ۱۹۱٥، ۵۱۹۱ ،۵۲۱۸، ٥۸۳، ٧٢٥٦ ٧٢٦٣۔٢٤٦٩ : حَدَّثَنِي ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا :۲۴۶۹ (محمد) بن سلام (بیکندی) نے مجھ سے بیان کیا الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدِ الطُّوِيْلِ عَنْ أَنَس که مروان بن معاویہ) فزاری نے ہمیں بتایا۔انہوں نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: آلَى رَسُولُ الله حمید طویل سے حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِّسَائِهِ شَهْرًا کے پاس ایک ماہ تک نہ جانے کی قسم کھائی اور آپ کے وَكَانَتِ انْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَجَلَسَ فِي پاؤں میں موچ آگئی تھی اور آپ اپنے ایک بالا خانہ عُلِيَّةٍ لَّهُ فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ: أَطَلَّقْتَ میں رہے حضرت عمر آئے اور انہوں نے پوچھا: کیا آپ نِسَاءَكَ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنِي آلَيْتُ مِنْهُنَّ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: شَهْرًا۔فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِيْنَ ثُمَّ نہیں، بلکہ میں نے ایک ماہ تک ان کے پاس نہ جانے نَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ۔کی قسم کھائی ہے۔آپ انتیس دن بالا خانہ میں ٹھہرے۔اس کے بعد اُترے اور اپنی ازواج کے پاس گئے۔اطرافه: ۳۷۸، ۶۸۹، ۷۳۲، ۷۳۳، ٨٠٥ 1114، 1911، ٥٢۰۱، ٥٢٨٩، ٦٦٨٤۔ریح: الْغُرْفَةُ وَالْعُلِيَّةُ الْمُشْرِفَةُ وَ غَيْرُ الْمُشْرِفَةِ فِي السُّطُوحِ وَغَيْرَهَا : اس باب میں تین روایتیں ہیں۔پہلی روایت سے صرف اس قدر بتانا مقصود ہے کہ الام مدينة یعنی مدینہ کے قلعہ نما مکانات میں بالا خانے ہوتے تھے۔دوسری اور تیسری روایت سے بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک دفعہ بالا خانے میں ایک مہینہ قیام فرمایا تھا۔ان روایتوں سے بالا خانہ بنانے اور اس میں رہائش اختیار کرنے کا جواز ظاہر ہے۔عنوان باب میں اگر چہ کوئی معین مسئلہ مذکور نہیں مگر ائمہ اسلام نے اس بارہ میں کچھ پابندیاں عائد کی ہیں کہ بالا خانے بنانے میں یہ احتیاط مد نظر رہے کہ کسی دور ونزدیک ہمسایہ کی بے پردگی نہ ہو اور سکونت کے دوران پوری احتیاط سے کام لے۔مثلاً دوسرے کے مکان میں نہ جھانکے جو سخت معیوب اور قابل مؤاخذہ ہے۔اس تعلق میں دیکھئے احمدیت یعنی حقیقی اسلام - انوار العلوم جلد ۸ صفحه ۲۸۰ تا ۲۸۸۔جہاں شہریت کے اسلامی اصول کا بیان ہے۔