صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 490
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۹۰ ۴۶- كتاب المظالم فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جو آپ کو ان پر اس وقت ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے آپ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِيْنَ أَفْشَتْهُ و تنبیہ کی۔ جب انتیس دن گزرے آپ حضرت عائشہ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ وَكَانَ قَدْ قَالَ : مَا کے پاس آئے اور ان سے باری شروع کی ۔ حضرت عائشہ نے آپ سے کہا: آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ ہمارے پاس ایک مہینہ تک نہیں آئیں گے اور آج ہمیں صلى الله عروسة مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِيْنَ عَاتَبَهُ اللَّهُ فَلَمَّا انتیسویں رات۔ رات ہے۔ میں انہیں گنتی رہی رہی ہوں۔ نبی علی مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ دَخَلَ عَلَى نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اور وہ مہینہ انتیس دن کا ہی تھا۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں : وہ آیت عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : نازل ہوئی جس میں ہیں اختیار دیا گیا تھا کہ خواہ ہم الله رو إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَّا تَدْخُلَ عَلَيْنَا دنیا لے لیں یا رسول اللہ ﷺ کے پاس رہیں) میں پہلی شَهْرًا وَإِنَّا أَصْبَحْنَا بِتِسْعِ وَعِشْرِينَ عورت تھی جس سے نبی کریم ﷺ نے پوچھنا شروع کیا۔ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا۔ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى آپؐ نے فرمایا: میں تم سے ایک بات بیان کرنے لگا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ ہوں اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم اس کا جلدی سے وَعِشْرُوْنَ وَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا جواب نہ دو؛ جب تک کہ اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لو کہتی تھیں : آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں وَعِشْرِينَ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأُنْزِلَتْ آيَةُ التَّخْبِيرُ فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةٍ فَقَالَ : باپ ایسے ہیں کہ مجھے آپ سے جدا ہونے کا مشورہ دیں۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے نبی! اپنی بیویوں إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا وَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَّا سے کہو کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ تمہیں کچھ دنیوی مجھ د نیوی سامان دے دیتا ہوں اور تم کو نیک طریق قَالَتْ قَدْ أَعْلَمُ أَنَّ أَبَوَيْ لَمْ يَكُونَا سے رخصت کر دیتا ہوں۔ اور اگرتم اللہ اور اس کے رسول يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِكَ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ: اور اخروی زندگی کے گھر کو چاہتی ہو تواللہ نے تم میں سے يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِلَى قَوْلِهِ پوری طرح اسلام پر قائم رہنے والیوں کے لیے بہت عَظِيمًا (الاحزاب : ۲۹-۳۰) قُلْتُ أَفِي هَذَا بڑا انعام تجویز کر رکھا ہے۔ میں نے کہا: کیا میں اس کے صحیح البخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی میں اس جگہ ”علم“ کا لفظ ہے ) صحیح البخاری جزء اول صفحہ ۳۳۵) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔