صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 492 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 492

صحيح البخاري - جلدم ۴۹۲ ٤٦- كتاب المظالم باب کی پہلی روایت ایک کشفی نظارے سے متعلق ہے جو بصورت پیشگوئی اس ہولناک فتنے کے ایام میں پوری ہوئی جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری عہد خلافت میں اُٹھا اور حضرت علی کی خلافت کے ایام میں نہایت شدید خونریزی کی صورت میں منتج ہوا۔تفصیل کے لیے دیکھئے اسلام میں اختلافات کا آغاز انوار العلوم جلد۲ صفحہ ۱۹۸ تا ۲۷۳۔اس تعلق میں کتاب فضائل المدينة باب ۷،۶،۵، ۸ بھی دیکھئے۔واقعہ مذکورہ بالا کیلئے کتاب النکاح باب ۸۳ روایت نمبر ۵۱۹۱ بھی دیکھئے۔بَاب ٢٦ : مَنْ عَقَلَ بَعِيْرَهُ عَلَى الْبَلَاطِ أَوْ بَابِ الْمَسْجِدِ (مسجد کے دروازے پر) جو پتھر بچھے ہوئے تھے جس نے وہاں یا مسجد کے دروازے پر اپنا اونٹ باندھا ٢٤٧٠: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا ۲۴۷۰ : مسلم بن ابراہیم ) نے ہمیں بتایا۔ہم سے ( بتایا۔أَبُو عَقِيلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكَّلِ النَّاجِيُّ ابوقيل نے بیان کیا، (کہا) کہ ہمیں ابوالمتوکل ناجی قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ الله نے بتایا۔وہ کہتے تھے: میں حضرت جابر بن عبداللہ عَنْهُمَا قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ وَعَقَلْتُ علیہ وسلم مسجد میں آئے اور میں بھی آپ کے پاس گیا اور الْجَمَلَ فِي نَاحِيَةِ الْبَلَاطِ فَقُلْتُ : هَذَا (مسجد کے پختہ فرش کے ایک کونے میں اونٹ باندھ جَمَلُكَ فَخَرَجَ فَجَعَلَ يُطِيْفُ بِالْجَمَل دیا۔میں نے کہا: یہ آپ کا اونٹ ہے۔آپ باہر آئے قَالَ : الْجَمَلُ وَالنَّمَنُ لَكَ * اور اونٹ کے آس پاس پھرنے لگے۔آپ نے فرمایا: یہ لو اس کی قیمت اور اونٹ بھی تمہارا ہی ہے اطرافه: ٤٤٣، ۱۸۰١، ۲۰۹۷ ، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵، ٢٣٩٤، ٢٤٠٦، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،٥٠٧٩ ،٤٠٥۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲۹٢٨٦١، ٦٧ ،۲۷۱۸ ٥٠ ٥٢٤٣، ٥٢٤٤، ٥٢٤٥، ٥٢٤٦ ٥٢٤٧ ٥٣٦٧ ٦٣٨٧۸۰ تشریح: مَنْ عَقَلَ بَعِيْرَهُ عَلَى الْبَلَاطِ اَوْ بَابِ الْمَسْجِدِ : بَلاط کے معنے ہیں پختہ فرش مکان کے اندر ہو یا پیش دروازہ۔(لسان العرب بَلَط ) عنوان باب میں جس فرش کا ذکر ہے وہ مسجد نبوی کا تھا جو دروازے کے سامنے تھا۔یہ فرش عام گزرگاہ کا حصہ تھا۔آیا ایسی جگہیں بلا اجازت عارضی طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں یا نہیں ؟ عنوان باب حسن سے قائم کر کے جواب محذوف رکھا ہے۔مندرجہ روایت سے ضمنا استدلال کیا جا سکتا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فروخت کر دہ اونٹ سپرد کرنے کی غرض سے وہاں لائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے پاس چکر لگایا اور اس کی قیمت ادا کی۔اس امر سے سمجھایا گیا ہے کہ اُونٹ وہاں بٹھانے کی اجازت ضمنا موجود تھی۔علما فتح الباری مطبوعہ بولاق میں الثَّمَنُ وَالْجَمَلُ لَک کے الفاظ ہیں (فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۱۴۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔