صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 489
صحيح البخاري - جلدم ۴۸۹ ٤٦- كتاب المظالم حضرت عمر نے سارا واقعہ بیان کیا۔نبی ﷺ مسکرائے۔بَصَرَهُ إِلَيَّ فَقَالَ: لَا۔ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا آپ دیکھیں کہ ہم قریش لوگ عورتوں سے زبر دست قَائِمٌ أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ تھے۔انہیں قابو میں رکھتے۔جب ایسی قوم کے پاس رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ آئے جن کی عورتیں ان سے زبردست ہیں۔یہ کہہ کر النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى قَوْمٍ تَغْلِبُهُمْ پھر میں نے کہا: (یا رسول اللہ!) دیکھیں میں حفصہ کے نِسَاؤُهُمْ فَذَكَرَهُ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى پاس گیا۔میں نے کہا تمہیں یہ بات دھوکہ نہ دے کہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُلْتُ : لَوْ رَأَيْتَنِي تمہاری یہ ہم جولی تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ: لَا ﷺ کو زیادہ پیاری ہے۔اُن کی مراد حضرت عائشہ سے يَغْرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْضَأَ تھی۔آپ پھر مسکرائے۔جب میں نے دیکھا کہ آپ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ مسکرائے ہیں تو میں بیٹھ گیا۔اس کے بعد میں نے آپ کے گھر کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھا تو اللہ کی قسم ! تین کچی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيْدُ عَائِشَةَ فَتَبَسَّمَ کھالوں کے سوا وہاں کوئی شئے نہیں تھی جو مجھے نظر آئی ہو۔أُخْرَى فَجَلَسْتُ حِيْنَ رَأَيْتُهُ تَبَسَّمَ ثُمَّ میں نے ( آپ سے) کہا: اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ رَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ کی امت کو کشائش دے کیونکہ فارس اور روم کو بہت فِيْهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلَاثٍ دولت دی گئی ہے اور انہیں دنیا ملی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔آپ تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔آپ فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِعْ عَلَى أُمَّتِكَ نے فرمایا: خطاب کے بیٹے !کیا ابھی تک تم شک میں ہو؟ فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّوْمَ وُسِعَ عَلَيْهِمْ وہ ایسے لوگ ہیں جن کو جلدی سے اس دنیا کی زندگی ہی وَأَعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللهَ میں ان کے جو مزے کی چیزیں تھیں دی گئی ہیں۔میں نے وَكَانَ مُتَكِنًا فَقَالَ: أَوَفِي شَكٍّ أَنْتَ كيا: يا رسول اللہ! میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔اور نبی ﷺ اپنی ازواج سے اس بات کی وجہ سے الگ ہوئے يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِلَتْ تھے جس کو حفصہ نے عائشہ سے بیان کر دیا تھا اور آپ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ي فرما چکے تھے کہ میں ان عورتوں کے پاس ایک مہینہ فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِي۔تک نہیں جاؤں گا اور یہ اس سخت ناراضگی کی وجہ سے تھا