صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 488 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 488

صحيح البخاری جلد ۴ ۴۸۸ ٤٦- كتاب المظالم أَدْرِي هُوَ ذَا فِي الْمَشْرُبَةِ فَخَرَجْتُ اور بی ﷺ سے بات کی اور پھر چلا آیا۔اس نے کہا: میں فَجِئْتُ الْمِنْبَرَ فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطُ يَبْكِي نے نبی کریم سے سے آپ کا ذکر کیا۔تو آپ خاموش بَعْضُهُمْ فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ رہے۔(حضرت عمر کہتے تھے ) میں لوٹ آیا اور ان لوگوں غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي کے ساتھ بیٹھ گیا جومنبر کے پاس تھے۔اس رنج نے جو میں هُوَ فِيْهَا فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ محسوس کر رہا تھا، مجھے نڈھال کر دیا اور میں پھر (بالا خانہ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ فَكَلَّمَ النَّبِيَّ ﷺ کے پاس) گیا۔{ اور غلام کے ذریعہ اجازت چاہی } ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ اس نے پھر ویسے ہی بیان کیا۔اس پر میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس تھے۔پھر مجھے اس رنج نے فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ جو میں اپنے اندر محسوس کر رہا تھا، اتنا بے قرار کیا کہ مجھ سے الَّذِيْنَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ نہ رہا گیا۔میں اس غلام کے پاس آیا اور میں نے کہا : عمر فَجِئْتُ { فَقُلْتُ لِلغُلَامِ * } فَذَكَرَ مِثْلَهُ کیلئے اجازت مانگو اور اس نے پھر ویسے ہی بیان کیا۔فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِيْنَ عِنْدَ جب میں پیٹھ موڑ کر واپس ہونے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ وہی غلام مجھے بلا رہا ہے۔اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ الْغُلَامَ فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَذَكَرَ نے آپ کو اجازت دی ہے۔چنانچہ میں آپ کے پاس مِثْلَهُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا فَإِذَا الْغُلَامُ اندر گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک بوریا پر لیٹے ہوئے يَدْعُوْنِي قَالَ: أَذِنَ لَكَ رَسُوْلُ اللهِ ہیں۔آپ کے اور بوریا کے درمیان کوئی بچھونا نہیں۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ اس لیے بورئیے نے آپ کے پہلو پر نشان ڈالے ہوئے ہیں۔ایک چمڑے کے تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں جس لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاضٌ قَدْ أَثْرَ الرِّمَالُ فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعْ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے۔میں نے آپ کو سلام کیا۔پھر میں نے پوچھا اور میں کھڑا ہی تھا: آپ نے اپنی بِجَنْبِهِ مُتَكِيُّ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے میری طرف اپنی حَشْوُهَا لِيْفٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ نگاہ اٹھائی اور فرمایا نہیں۔تو پھر میں نے کہا اور میں کھڑا وَأَنَا قَائِمٌ: طَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟ فَرَفَعَ ہی تھا۔میرے دل کی گھبراہٹ دور ہو رہی تھی۔یارسول اللہ عمل یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء۵ حاشیہ صفحہ ۱۴۳)