صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 487 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 487

صحيح البخاری جلد ۴ ۴۸۷ ۴۶ - كتاب المظالم وَلَا تُرَاجِعِيْهِ فِي شَيْءٍ وَلَا تَهْجُرِيْهِ باتیں بھی ہو رہی تھیں کہ غسان ہم سے لڑنے کے لئے وَ سَلِينِي مَا بَدَا لَكِ وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ گھوڑوں کی نعل بندی کر رہے ہیں۔ پس میرا ساتھی اپنی كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْضَأَ مِنْكِ باری کے دن نیچے گیا اور عشاء کے وقت واپس آیا اور وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میرے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا اور کہا: کیا وہ سویا ہوا وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ وَكُنَّا تَحَدَّثْنَا أَنَّ ہے؟ میں گھبرا کر اُس کے پاس باہر آیا اور اس نے کہا: غَسَّانَ تَنْعِلُ النِّعَالَ لِغَزُونَا فَنَزَلَ بہت ہی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ میں نے پوچھا: وہ صَاحِبِي يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَرَجَعَ عِشَاءً ☆ پوچھا: وہ کیا؟ کیا غسان آپہنچے؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اُس سے بھی بہت بڑا اور بہت لمبا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا وَقَالَ: دے دی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: حفصہ بیچ بیچ نامراد ہی أَثُمَّ هُوَ؟ فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ہوئی اور برباد ہوئی۔ میں بھی سجھتا تھا کہ تقریب : ہی ایسا وَقَالَ: حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ قُلْتُ : مَا هُوَ ہونے کو ہے۔ میں نے اپنے کپڑے جلدی سے پہنے اور أَجَاءَتْ غَسَّانُ؟ قَالَ: لَا بَلْ أَعْظَمُ صبح کی نماز بی اے کے سے صلى الله کے ساتھ پڑھی۔ آپ اپنے ایک مِنْهُ وَأَطْوَلُ طَلَّقَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ بالا خانہ میں چلے گئے تھے اور وہاں اکیلے بیٹھ رہے۔ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ۔ قَالَ : قَدْ خَابَتْ حفصہ کے پاس اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ رو رہی ہے۔ حَفْصَةً وَخَسِرَتْ كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ میں نے پوچھا: تمہیں کونسی بات رلا رہی ہے؟ کیا میں نے هَذَا يُؤْشِكُ أَنْ يَكُوْنَ فَجَمَعْتُ عَلَيَّ تمہیں آگاہ نہیں کیا تھا؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ثِيَابِي فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ طلاق دے دی ہے؟ وہ کہنے لگی: مجھے پتہ نہیں۔ آپ اس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَشْرَبَةً بالا خانے میں ہیں۔ میں باہر نکل کر منبر کے پاس آیا تو لَهُ فَاعْتَزَلَ فِيْهَا فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے آس پاس کچھ لوگ ہیں۔ بعض ان میں سے رو رہے ہیں۔ میں ان کے پاس کچھ دیر بیٹھا فَإِذَا هِيَ تَبْكِي قُلْتُ : مَا يُبْكِيْكِ أَوَلَمْ پھر مجھ پر نج کاغلبہ ہوا وہیں اس بالا خانہ کے پاس پہنچا أَكُنْ حَذَرْتُكِ أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللهِ ہاں نبی کریم ﷺے تھے۔ میں نے آپ کے ایک غلام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ : لَا سے جوسیاہ فام تھا، کہا: عمر کیلئے اجازت مانگو۔ وہ اندر گیا فتح الباری نسخہ انصاریہ میں یہاں الفاظ "آنَائِم ھو “ ہیں ۔ ( فتح الباری جز ۵۰ صفحه ۱۴۳) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔