صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 486 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 486

صحيح البخاری جلدم MAY ٤٦- كتاب المظالم يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ مِنْ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔اور ہم قریش لوگ عورتوں پر ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْأَمْرِ وَغَيْرِهِ غالب رہتے تھے۔جب ہم (مدینہ ) انصار کے پاس وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَهُ وَكُنَّا مَعْشَرَ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی عورتیں قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى ان پر غالب رہتی ہیں۔( یہ دیکھ کر ) ہماری عورتیں بھی انصاری عورتوں کا وطیرہ اختیار کرنے لگیں۔میں نے اپنی الْأَنْصَارِ إِذْ هُمْ قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ عورت کو ڈانٹا تو اس نے مجھے جواب دیا۔میں نے برا فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَاءِ منایا کہ وہ اس طرح مجھے جواب دے۔کہنے لگی: میرے الْأَنْصَارِ فَصِحْتُ عَلَى امْرَأَتِي جواب دینے کو آپ کیوں برا مانتے ہیں۔خدا کی قسم ! نبی فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي ﷺ کی ازواج بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور ان میں فَقَالَتْ: وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أَرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ سے ایک تو آپ سے سارا دن رات تک الگ رہتی ہے۔إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس بات نے مجھے گھبرا دیا۔میں نے کہا: بہت ہی نامراد ہے وہ جو ایسا کرتی ہے۔اس کے بعد میں نے اپنے لَيُرَاجِعْنَهُ وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ کپڑے جلدی سے پہنے اور حفصہ کے پاس گیا۔میں نے حَتَّى اللَّيْلِ فَافْزَعَشِيْ فَقُلْتُ: خَابَتْ کہا: اری حفصہ ! تم میں سے کوئی (بیوی) رسول اللہ ملے مَنْ فَعَلَتْ مِنْهُنَّ بِعَظِيْمٍ۔ثُمَّ جَمَعْتُ کو دن رات ناراض رکھتی ہے۔اس نے کہا: ہاں۔میں عَلَيَّ ثِيَابِي فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ نے کہا: نا مراد رہے وہ برباد ہو۔کیا وہ اللہ کی ناراضگی سے فَقُلْتُ: أَيْ حَفْصَةُ أَتُغَاضِبُ بچ رہے گی جو اُس کے رسول ﷺ کو ناراض کرتی ہے۔إِحْدَاكُنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تم رسول اللہ ﷺ سے بہت فرمائشیں نہ کیا کرو، ورنہ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ فَقَالَتْ : نَعَمْ۔ہلاک ہو جاؤ گی اور نہ کسی بات میں آپ کو جواب دیا کرو اور نہ ان سے علیحدگی اختیار کیا کرو اور تمہیں جو کوئی ضرورت پیش آئے مجھ سے کہا کرو اور تمہیں یہ بات دھوکہ فَقُلْتُ : خَابَتْ وَخَسِرَتْ أَفَتَأْمَنُ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ نہ دے کہ تیری ہم جولی تجھ سے زیادہ خوبصورت ہے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِيْنَ لَا تَسْتَكْثِرِي رسول اللہ ﷺ کو زیادہ پیاری ہے۔اُن کی مراد حضرت عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عائشہ تھی۔(حضرت عمر نے کہا:) اور (ان دنوں ) یہ