صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 485 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 485

صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۸۵ ٤٦- كتاب المظالم شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: عبید اللہ بن عبداللہ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الى ثور نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمْ أَزَلَ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: مجھے ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھوں حَرِيضًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ صلى الله کہ نبی ﷺ کی ازواج میں سے وہ دوعور دو عورتیں کون ۔ انون ہیں عَنْهُ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ نہیں اللہ نے کہا اگر تم دونوںاللہ کی طرف رجوع کرو اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللهُ اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگو تو تمہارے دل تو اس طرف لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ پہلے ہی سے مائل ہیں۔ (پھر ایسا ہوا کہ ) میں اُن کے ساتھ قُلُوبُكُمَا (التحريم: (٤) فَحَجَجْتُ حج کے لئے گیا۔ وہ راستہ چھوڑ کر ایک طرف گئے اور میں مَعَهُ فَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ بھی چھا گل لے کر ان کے ساتھ ہی گیا۔ انہوں نے الگ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ جاکر قضاء حاجت کی ۔ جب آئے تو میں نے ان کے مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ ہاتھوں پر اس چھاگل ہے : سے پانی ڈالا اور انہوں نے وضو کیا۔ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاج میں نے کہا: امیر المومین نبی ﷺ کی ازواج میں سے وہ دو عورتیں کون ہیں جن سے اللہ عزوجل نے فرمایا تھا: النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی غلطی کی معافی قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى مانگو تو تمہارے دل تو اس طرف پہلے ہی سے مائل ہیں۔ اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا صو الله انہوں نے کہا: ابن عباس ! تم پر بڑا ہی تعجب۔ عائشہ اور (التحريم: ٤) فَقَالَ: وَاعَجَبًا لَكَ يَا حفصہ ہی ہیں۔ پھر حضرت عمر اصل باتش بات شروع سے بیان ابْنَ عَبَّاسٍ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ۔ ثُمَّ کرنے لگے۔ انہوں نے کہا: میں اور میرا ایک انصاری اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ يَسُوْقُهُ فَقَالَ: ہمسایہ بنی امیہ بن زید کی بستی میں رہتے تھے اور یہ بستی إِنِّي كُنْتُ وَجَارٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ فِي مدینہ کی ان بستیوں میں سے تھی جو بلندی پر واقع ہیں اور بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهِيَ مِنْ عَوَالِي ہم باری باری نبی ﷺ کے پاس جایا کرتے تھے۔ ایک الْمَدِينَةِ وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَی دن وہ جاتا اور ایک دن میں۔ جب میں جاتا تو اس دن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ کی خبر وحی وغیرہ اپنے اس ہمسائے کو سنا دیتا اور جب وہ