صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 484
صحيح البخاري - جلدم ΠΑΙ ٤٦- كتاب المظالم يُمِيْطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةُ ہوئے کہا: اگر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹائے تو یہ بھی صدقہ ہے۔فریح اِمَاطَةُ الأذى مسلم کتاب الایمان میں علامات ایمان میں سے اعلیٰ درجہ تو حید باری تعالیٰ کا اقرار اور اونی درجہ اِماطة الأذى یعنی راستے سے تکلیف دہ شئے کا دور کرنا بتایا گیا ہے۔دیکھئے مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان عدد شعب الایمان راستوں کا آرام دہ اور پر امن بنانا حکومت کے فرائض میں سے ہے جیسا کہ مصارف زکوۃ کے تعلق میں کتاب الزکاۃ ، باب ۴۹ کی تشریح میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اسلام نے اس غرض کے لئے اموال زکوۃ میں گنجائش رکھی ہے۔اگر یہ فرض ادا نہیں کیا جاتا؟ یا اس میں کوتاہی برتی جاتی ہے تو حکومت اس میں جواب دہ ہے اور اس فرض میں کوتا ہی مظالم میں شمار کی گئی ہے۔پبلک کا حق ہے کہ اس کو تا ہی کے تدارک کا مطالبہ کرے۔باب ٢٥ : الْعُرْفَةُ وَالْعُلِيَّةُ الْمُشْرِفَةُ وَغَيْرُ الْمُشْرِفَةِ فِي السُّطوح وَغَيْرِهَا قلعہ نما مکانات اور چھتوں وغیرہ پر بلند اور پست چو بارے ( بنانا اور اُن میں رہنا ) ٢٤٦٧ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۲۴۶۷ عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، عُرْوَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ الله زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ عَنْهُمَا قَالَ: أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے بلند مکانوں میں سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطْمِ مِنْ آطَامِ ایک مکان پر چڑھے اور نیچے دیکھا اور فرمایا: کیا تم الْمَدِينَةِ ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي بھی (اپنے گھروں میں فتنوں کے واقع ہونے کی أَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ جگہوں کو دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں، میں تمہارے گھروں میں فتنوں کو قطرات بارش کی مانند كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ اطرافه ۱۸۷۸، ۳۰۹۷، ٧٠٦۰ گرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔٢٤٦٨: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرِ :۲۴۶۸ جی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن شہاب