صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 483 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 483

صحيح البخاری جلدم ۴۸۳ ٤٦- كتاب المظالم ہے۔قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً فِيْهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ ه ( البيئة: ۴۳) اللہ تعالی کی طرف سے یہ وہ رسول ہے جو انہیں پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سناتا ہے۔جن میں قیمتی پائیدار، ابدی تعلیمیں ہیں اور قرآن مجید سے متعلق فرماتا ہے: وَانزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَ هُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ ط الْحَقِّ لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَ مِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا الكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُونَ (المائدة : ٤٩ ) ہم نے تجھ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جو تمام سابقہ ہدایات کی مصدق اور جامع ہے اور اُن کی محافظ۔پس ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کر جو اللہ نے اتارا ہے۔اور جو تیرے پاس حق آیا ہے، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک مسلک اور ایک مذہب بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ اس کے ذریعہ جو اس نے تمہیں دیا تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔اللہ ہی کی طرف تم سب کا کوٹ کر جانا ہے۔پس وہ تمہیں ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔اور فرماتا ہے: وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات (۲۰) یعنی مومنوں کے مالوں میں سائل اور محروم دونوں کا حق ہے۔اَلمَحْرُوم کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے زبان جانور بھی مراد لئے ہیں جو قوت گویائی سے محروم ہیں اور یہ لفظ سائل کے مقابل میں واقع ہوا ہے جو زبان سے اپنی حاجت ظاہر کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔فرماتے ہیں: ” بے زبانوں سے مراد کتے ، بلیاں، چڑیاں، بیل، گدھے، بکریاں اور دوسری چیزیں وو ہیں۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی ایصال خیر کی اقسام - روحانی خزائن جلده اصفحہ ۳۵۷) خلاصہ باب یہ ہے کہ راہ گذروں اور بے زبان جانوروں کے حقوق نظر انداز کرنا بھی مظالم ہی کی ایک قسم ہے اور اس کا تدارک کرنا ضروری ہے اور ان سے غفلت برتنا قابل مواخذہ۔اس تعلق میں اسلامی اصول کی فلاسفی زیر عنوان اخلاق متعلق ترک شهر نیز ” ایصال خیر کی اقسام بھی دیکھئے۔بَابِ ٢٤ : إِمَاطَةُ الْأَذَى تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا وَقَالَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ ہمام نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے