صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 482
صحيح البخاري - جلدم MAN ٤٦- كتاب المظالم رضي عَنْ أَبِي صَالِحِ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ آزاد کردہ غلام نمی سے ہمی نے ابو صالح سمان سے، اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ بِطَرِيْقِ فَاشْتَدَّ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِتْرًا فَنَزَلَ فِيْهَا ایک شخص راستہ میں جار ہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی۔فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَتُ اس نے ایک کنواں پایا۔اس میں اترا اور پانی پیا۔يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَش۔فَقَالَ پھر باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا ہے جو ہانپ رہا الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔اس شخص نے رہا الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي خیال کیا کہ اس کتے کو بھی پیاس سے وہی تکلیف ہے فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَاَ خُفَّهُ مَاءً فَسَقَى جو مجھے پہنچی تھی۔وہ کنوئیں میں اترا اور اپنا موزہ پانی الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوْا سے بھرا اور اس کتے کو پانی پلایا۔اللہ نے اس کی اس يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ نیکی کی قدر کی اور اس کے گناہوں کی پردہ پوشی لَأَجْرًا فَقَالَ: فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدِ فرماتے ہوئے اس سے درگزر کیا۔صحابہ نے کہا: رَطْبَةٍ أَجْرٌ۔اطرافه ۱۷۳، ۲۳۶۳، ٦۰۰۹ یا رسول اللہ ! اور ہمیں ان بے زبان چوپایوں کی وجہ سے بھی ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ہر تازہ جگر جاندار مخلوق) کی وجہ سے ثواب ہوگا۔تشريح : الْآبَارُ الَّتِي عَلَى الطَّرِيقِ إِذَا لَمْ يُنَاذْ بِهَا : عام گزرگاہوں سےمتعلقہ حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ راہ گیروں کے لئے پانی کا انتظام ہو اور کنوئیں محفوظ جگہوں میں کھدوائے جائیں۔مبادا کوئی ان میں ٹھوکر کھا کر گر جائے۔فِي كُلّ ذَاتِ كَبِدِ رَطْبَةٍ اَجْرٌ : ہر تر و تازہ جگر والے یعنی جاندار میں ثواب ہے۔اسلام کی تعلیم میں نیکی کا دائرہ عمل کتنا وسیع ہے کہ ہر ذی روح کو شامل رکھتا ہے اور اس میں ہر عمل نتیجہ خیز بتایا گیا ہے۔ہر ذی روح کے ساتھ رحم اور شفقت کی تعلیم اس دور میں بھی پائی جاتی تھی جسے ہندو پرا چین کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔چنانچہ اس تعلیم کا نیک اثر قدیم ترین اقوام میں اب تک پایا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک پرند اور چرند کے لئے خوراک اور پانی مہیا کرنا بڑا کار ثواب