صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 24
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۴ ۳۴- كتاب البيوع کارڈ مقصود ہے اور عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ اس تعلق میں دیا گیا ہے، اس میں جہاز رانی کو اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضلوں میں سے شمار کیا گیا ہے۔ پوری آیت یہ ہے : وَهُوَ الَّذِى سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَ تَسْتَخْرِجُوا حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (النحل : ۱۵) اس نے سمندر کو مسخر کیا تا کہ تم اس میں سے مچھلی کا تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے زیور کا سامان بھی نکالو، جسے تم پہنے کے کام میں لاتے ہو اور تو اس میں سے کشتیوں کو پانی پھاڑتے ہوئے اور زور سے چلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ( تا تم سمندری سفر طے کرو) کے فضل کی جستجو کرو اور تائم اس کے شکر گزار رہو۔ اور اس ممانعت آیت کے سیاق سے ظاہر ہے کہ بحری سفر محل احسان شماری اور شکر گزاری ہے، نہ کہ خوف وخطر کی وجہ سے محل مما ہے۔ اس آیت میں ترغیب دی گئی ہے کہ سمندر ربانی نعمتوں کے مخزن ہیں اور وہ انسان کے زیر تسخیر ہیں کہ ان سے بذریعہ سفر قسم قسم کے فوائد اٹھائے جائیں اور آج ذرائع نقل و حرکت کے طفیل جس قدر نفع ان سمندروں سے اُٹھایا جاتا ہے اور مختلف ملکوں کی اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاتی ہیں ؟ اُس کا یہاں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے الْفُلْک اور مَوَاخِر کی لغوی تشریح انہی دور دراز با برکت سفروں کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے کی ہے۔ مَخَرَ کے معنے پھاڑنا اور ایسی رفتار جس سے آواز نکلے، جو ہوا اور پانی کے تصادم سے پیدا ہوتی ہے اور یہ بادبانی جہاز ہیں، جو ہواؤں کے زور سے چلتے ہیں اور اکثر اہل لغت کا اسی پر اتفاق ہے۔ فریابی نے بھی اپنی تفسیر میں مجاہد کا یہ قول انہی معنوں میں موصول ال میں موصولاً نقل کیا ہے ۔ ( فتح الباری جزء اری جزء ۴۰ صفحه ۳۷۹) رَجُلًا مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ : اس اسرائیلی شخص سے متعلقہ لیٹ کے قول کا حوالہ صحیح بخاری کتاب الكفالة باب اول روایت نمبر ۲۲۹۱ میں مفصل مذکور ہے۔ ان حوالوں کے سوا زیر باب اور کوئی روایت درج نہیں کی گئی اور ان سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تجارت کی غرض سے سمندری سفر کا دستور قدیم ایام سے چلا آتا ہے، جبکہ کشتی بانی ابتدائی حالت میں تھی۔ جب تک اس کے خلاف کوئی شرعی دلیل قائم نہ ہو، اس بارے میں ممانعت کا فتوی درست نہیں۔ بلکہ نص صریح کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس بارہ میں ارشاد باری تعالیٰ یہ ہے : فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ۔ (الجمعة: 1) بَاب ۱۱ : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا جب وہ تجارت یا تماشہ دیکھیں ، وہ اُس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں۔ (الجمعۃ:۱۲) وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ : رِجَالٌ لا تُلْهِيْهِمْ اور الله جل ذکرہ کا یہ فرمانا: وہ ایسے مرد ہیں جنہیں اللہ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ کے ذکر سے نہ تجارت غافل کرتی ہے نہ لین دین۔ (النور: ۳۸) وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ الْقَوْمُ يَتَّجِرُوْنَ اور قتادہ نے کہا: یہ وہ لوگ تھے جو آپس میں تجارت