صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 23
صحيح البخاری جلد ۴ لله ۳۴- كتاب البيوع بَاب ١٠ : التِّجَارَةُ فِي الْبَحْرِ سمندر میں تجارت کرنا وَقَالَ مَطَرٌ : لَا بَأْسَ بِهِ وَمَا ذَكَرَهُ اللهُ اور مصر ( بن طہمان ) نے کہا: اس میں کوئی اندیشے کی فِي الْقُرْآنِ إِلَّا بِحَقِّ ثُمَّ تَلَا : وَتَرَى بات نہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حق بات کا الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ ذکر فرمایا ہے۔ پھر انہوں نے ( یہ آیت پڑھی: تو فَضْلِهِ (النحل: ١٥) وَالْفُلْكُ السُّفْنُ جہازوں کو دیکھتا ہے کہ وہ سمندر میں پانی کو چیرتے ہوئے چلے جا رہے ہیں اور تا تم اللہ کے فضل کی جستجو کرو۔ الْوَاحِدُ وَالْجَمْعُ سَوَاءٌ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ( لفظ ) الفلک مفرد اور جمع کے لئے ایک سا ہے۔ تَمْخَرُ السُّقُنُ الرِّيحَ وَلَا تَمْخَرُ الرِّيحَ اس سے مراد ہری سے مراد بڑی کشتیاں ہیں۔ اور مجاہد نے کہا: کشتیوں مِنَ السُّفْنِ إِلَّا الْفُلْكُ الْعِظَامُ۔ میں سے وہی ہوا کو پھاڑتی ہیں جو بڑی بڑی ہوں۔ ٢٠٦٣: وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي ۲۰۶۳ اور لیٹ نے کہا: جعفر بن ربیعہ نے مجھ سے جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بیان کیا انہوں نے عبد الرحمن بن ہرمز سے، انہوں هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت ابو ہریرہ عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ خَرَجَ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو سمندر میں فِي الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ وَ سَاقَ سفر پر گیا تھا اور اپنی ضرورت اُس نے پوری کی اور الْحَدِيثَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ: ساری حدیث بیان کی۔ عبد اللہ بن صالح نے مجھ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بِهِ۔ سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے اس کے متعلق بتایا۔ اطرافه: ۱۹۹۸، ۲۲۹۱، ٢٤٠٤، ٢٤٣٠، ٢٧٣٤، ٦٢٦١۔ تشریح : التِّجَارَةُ فِي الْبَحْرِ: بعض فقہاء نے بحری ماء نے بحری سفر کے خلاف فتوی دیا ہے کہ فتوی دیا ہے کہ سمندر کا سفر محل خوف اور مخاطرہ نفس ہے جو منشاء آيت لَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: ۱۹۶) کے خلاف ہے۔ -------- یعنی اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۷۸) از روئے سیاق کلام آیت کا یہ مفہوم نہیں بلکہ اس کے برعکس یہ ہے کہ اگر انفاق فی سبیل اللہ میں کو تاہی کرو گے تو ہلاک ہو جاؤ گے۔ غرض اس باب میں انہی فقہاء