صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 25
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۵ ۳۴- كتاب البيوع وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا نَابَهُمْ حَقٌّ مِّنْ کرتے تھے مگر جب اللہ کے حقوق میں سے کوئی حق حُقُوقِ اللهِ لَمْ تُلْهِهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ ان کے سامنے آجا تا تو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تجارت عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ حَتَّى يُؤَدُّوْهُ إِلَى اللَّهِ۔اور خرید وفروخت ان کو غافل نہ کرتی۔وہ اللہ کا حصہ بہر کیف ادا کرتے۔٢٠٦٤: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ قَالَ: ۲۰۶۴ محمد بن سلام بیکندی) نے مجھ سے بیان حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ عَنْ حُصَيْنٍ کیا، کہا: محمد بن فضیل نے مجھے بتایا۔انہوں نے حصین عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ ( بن عبد الرحمن ) سے حصین نے سالم بن ابی جعد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلَتْ عِيْرٌ وَنَحْنُ سے ، سالم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی۔انہوں نے کہا: ایک تجارتی قافلہ آیا؛ جبکہ ہم نبی الْجُمُعَةَ فَانْفَضَّ النَّاسُ إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے رَجُلًا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَاِذَا رَاَوُا تو لوگ بکھر گئے ،سوائے بارہ مردوں کے۔تو یہ آیت تِجَارَةً اَوْ لَهُوَا انْفَضُّوا إِلَيْهَا نازل ہوئی: جب وہ تجارت یا کھیل تماشہ دیکھیں تو وَتَرَكُوكَ قَابِمَا - (الجمعة: ۱۲) اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔اطرافه ٩٣٦، ٢٠٥٨، ٤٨٩٩۔تشریح۔وَإِذَا رَاَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهُوَا انْفَضُّوا إِلَيْهَا: سورہ جمعہ کی آخری آیت کا تیسری بار پھر حوالہ دے کر سابقہ مضمون میں ربط پیدا کر دیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تجارتی قافلہ کے آنے کی خبر سن کر نماز جمعہ کے دوران چلے گئے۔یہ ابتدائی زمانے کا واقعہ ہے۔بعد میں تو انہوں نے نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔وہ حقوق اللہ کے تقاضے کو دنیا کے کاروبار پر ہمیشہ مقدم کیا کرتے تھے۔روایت نمبر ۲۰۵۸ میں یہ الفاظ ہیں: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ لا إِذْ أَقْبَلَتْ اور روایت نمبر ۲۰۶۴ میں ہے : اقْبَلَتْ عِيْرٌ وَّنَحْنُ نُصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ م الجمعة۔۔دونوں روایتوں سے ظاہر ہے کہ نماز کی حالت میں لوگ منڈی کی طرف چل دیے۔اس سے ظاہر ہے صلى الله کہ ابتدائی زمانہ ہجرت کا واقعہ ہے جبکہ لوگ مسائل نماز سے ناواقف تھے۔