صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 481
صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۸۱ ٤٦- كتاب المظالم الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر انہیں بیٹھکیں ہی قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ: غَضُّ بنانا ہےلے تو پھر راستے کو جو اس کا حق ہے، دو۔ الْبَصَرِ وَكَفَّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ انہوں نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نگاہ نیچے رکھنا اور تکلیف دہ شئے دور کرنا اور وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ۔ سلام کا جواب دینا، بھلی بات کا حکم دینا اور ناپسندیدہ طرفه ٦٢٢٩ بات سے روکنا۔ تشريح : أَفْنِيَةُ الدُّورِ وَالْجُلُوسُ فِيهَا وَالْجُلُوسُ عَلَى الصُّعُدَاتِ: گھروں کے اندر اور باہر صحن جو چھوڑے جاتے ہیں ان میں بھ میں بھی ایک قسم کا اشتراک ہوتا ہے۔ خاندان کے افراد اور دور ونزدیک ----- کے رشتہ دار اور متعلقین کو وہاں اکٹھے مل کر بیٹھنے اور باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ بچے کھیل کو د سکتے ہیں۔ عربی زبان میں گھر کے اندرونی حصے میں کھلی جگہ کو صحن کہتے ہیں اور گھر کے باہر والے آنگن کو فناء اور صُعُدَہ گھر کے دروازے کے سامنے کھلی جگہ یا گذرگاہ ہے۔ اس کی جمع صُعُدَات اور صَعُدَات ہے۔ صَعِید کے معنے کھلا میدان ، کھلا راستہ ۔ عنوان باب میں جو لفظ ہے وہ دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے اور اس سے مراد گھر کے سامنے کا میدان یا گذرگاہ ہے۔ ان جگہوں میں بھی بیٹھنا پسندیدہ نہیں کہ اس سے آنے جانے والوں کے لئے روک پیدا ہوتی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۴۰) (عمدة القاری جزء ۱۳۰ صفحه ۱۲) چنانچہ حدیث زیر باب میں اس کی وضاحت موجود ۔ ہے۔ ایسے راستوں سے متعلقہ حقوق یہ ہیں: (غَضُ الْبَصَرِ) نگاہیں نیچی رکھنا تا مستورات آسانی سے گزر سکیں ۔ ( كَفُ الاڈی) ایزاد ہی اور بخش گوئی سے اجتناب ، سلام کا جواب دینا، نیکی کی تلقین کرنا، نا پسندیدہ باتوں سے پر ہیز ۔ عنوان باب میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے کتاب الصلوة تشریح باب ۸۶ روایت نمبر ۴۷۶ دیکھئے ۔ جہاں عنوان باب میں ان الفاظ میں صراحت ہے: مِنْ غَيْرِ ضَرَرٍ بِالنَّاسِ۔ ایسی جگہوں میں بیٹھنے کے لئے شرط ہے کہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ اس تعلق میں گذشتہ باب کی تشریح بھی دیکھئے۔ بَاب ۲۳ : الْآبَارُ الَّتِي عَلَى الطَّرِيقِ إِذَا لَمْ يُتَأَذَّ بِهَا راستوں کے پر کنوئیں کھودنا اگر اُن سے تکلیف یا نقصان نہ ہو ٢٤٦٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۲۴۶۶: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَةٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ نے مالک سے، مالک نے حضرت ابوبکر کے عمدة القاری میں یہاں "فَإِذَا اَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجَالِسَ“ کے الفاظ ہیں (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۱۳) عمدۃ القاری میں یہاں ”الطرق“ کا لفظ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ۱۴)