صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 476 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 476

صحيح البخاری جلد ۴ ۴۷۶ ٤٦- كتاب المظالم من قدح النبی و آنیته روایت نمبر ۵۶۳۷) میں حضرت سہل بن سعد انصاری سے مفصل نقل کی ہے۔ ساعدہ کعب بن خزرج انصاری کا خاندان تھا۔ عربی میں شیر کے بہت سے نام ہیں جن میں سے ایک ساعدہ بھی ہے۔ اس خاندان کے محلے میں جو منڈوا (چوپال)، پال) بنایا گیا تھا۔ ساعدہ نامی شخص کے نام سے مشہور ہوا اور بیٹھک کے لئے استعمال ہوتا؟ تھا۔ عمدة القاری جزء ۱۳ صفحه ۹) بَاب ۲۰ : لَا يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ کوئی پڑوسی ، پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑیاں گاڑنے سے نہرو کے ٢٤٦٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۲۴۶۳ : عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ مَّالِكَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم قَالَ: لَا يَمْنَعْ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يُغْرِزَ نے فرمایا کوئی پڑھی اپنے پڑوسی کواپنی دیوار میں لکڑیاں گاڑنے سے نہ روکے۔ اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ حَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ ثُمَّ يَقُوْلُ أَبُو هُرَيْرَةَ : کہتے تھے مجھے کا ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اس مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ وَاللَّهِ بات سے منہ پھیرتے ہو۔ اللہ کی قسم ! میں ضرور اس لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ۔ حدیث کو تمہارے کندھوں کے درمیان پھینکتا رہوں گا۔ اطرافه: ٥٦٢٧، ٠٥٦٢٨ تشريح ۔ لَا يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَعْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ: اس باب میں ایک خاص حق کا ذکر کیا گیا ہے جو بسا اوقات جھگڑے کا باعث بنتا ہے۔ دو اشخاص کے مکانوں کے درمیان ایسی دیوار میں تصرف کرنا جس کے بنانے پر صرف ایک ہی پڑوسی کا خرچ ہوا ہو اور وہ اسی کی ملکیت ہو۔ اس بارے میں فقہاء نے یہ سوال اُٹھایا ہے۔ آیا پڑوسی کی دیوار پر بغیر مالک کی اجازت کے شہتیر رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح بغیر اجازت تختیاں یا کھونٹیاں نصب کی جاسکتی ہیں یا نہیں؟ اگر مالک اجازت نہ دے تو کیا شریعت اس میں جبرا تصرف کرنے کا حق دیتی ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام احمد بن حنبل اور اسحق بن راہویہ ) وغیرہ کا اس بارے میں فتوی مذکورہ بالا حدیث کے ظاہری الفاظ سے مطابق ہے مگر امام مالک اور امام شافعی کا مشہور مذہب اس بارے میں یہ ہے کہ مالک دیوار کی رضا مندی ضروری ہے اور اگر وہ اجازت نہ دے تو وہ مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہی مذہب احناف کا ہے۔ ارشاد لَا يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ وجوب پر دلالت نہیں کرتا بلکہ مندوب ہے۔ مالک دیوار کو صرف تلقین کی گئی ہے کہ اسے ہمسایہ سے نیک تعلقات قائم کرنے میں سخاوت نفس سے کام لینا چاہیے۔ اس ارشاد سے ہمسائے کو دیوار میں جبرا تصرف کرنے کا حق نہیں پیدا ہوتا ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۳۷) (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۱۱،۱۰)