صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 476
صحيح البخاری جلدم ۴- كتاب المظالم من قدح النبی و آنیته روایت نمبر ۵۶۳۷) میں حضرت سہل بن سعد انصاری سے مفصل نقل کی ہے۔ساعدہ کعب بن خزرج انصاری کا خاندان تھا۔عربی میں شیر کے بہت سے نام ہیں جن میں سے ایک ساعدہ بھی ہے۔اس خاندان کے محلے میں جو منڈوا ( چوپال) بنایا گیا تھا۔ساعدہ نامی شخص کے نام سے مشہور ہوا اور بیٹھک کے لئے استعمال ہوتا تھا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۹) باب :٢٠ : لا يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يُغْرِزَ خَشَبَةٌ فِي جَدَارِهِ کوئی پڑوسی ، پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑیاں گاڑنے سے نہ رو کے ٢٤٦٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۴۶۳: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ مَّالِكِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اعرج سے ، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑیاں قَالَ: لَا يَمْنَعْ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يُغْرِزَ گاڑنے سے نہ روکے۔اس کے بعد حضرت ابوہریرہ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ ثُمَّ يَقُوْلُ أَبُو هُرَيْرَةَ: کہتے تھے: مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اس مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ وَاللهِ بات سے منہ پھیرتے ہو۔اللہ کی قسم ! میں ضرور اس حدیث کو تمہارے کندھوں کے درمیان پھینکتا رہوں گا۔لَأَرْمِينَ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ۔اطرافه: ٥٦٢٧، ٥٦٢٨۔تشریح لَا يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِى جِدَارِهِ : اس باب میں ایک خاص حق کا ذکر کیا گیا ہے جو بسا اوقات جھگڑے کا باعث بنتا ہے۔دواشخاص کے مکانوں کے درمیان ایسی دیوار میں تصرف کرنا جس کے بنانے پر صرف ایک ہی پڑوسی کا خرچ ہوا ہو اور وہ اسی کی ملکیت ہو۔اس بارے میں فقہاء نے یہ سوال اُٹھایا ہے۔آیا پڑوسی کی دیوار پر بغیر مالک کی اجازت کے شہتیر رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح بغیر اجازت تختیاں یا کھونٹیاں نصب کی جاسکتی ہیں یا نہیں؟ اگر مالک اجازت نہ دے تو کیا شریعت اس میں جبرا تصرف کرنے کا حق دیتی ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے۔امام احمد بن حنبل اور الحق ( بن راہویہ ) وغیرہ کا اس بارے میں فتویٰ مذکورہ بالا حدیث کے ظاہری الفاظ سے مطابق ہے مگر امام مالک اور امام شافعی کا مشہور مذہب اس بارے میں یہ ہے کہ مالک دیوار کی رضامندی ضروری ہے اور اگر وہ اجازت نہ دے تو وہ مجبور نہیں کیا جاسکتا۔یہی مذہب احناف کا ہے۔ارشاد لَا يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ وجوب پر دلالت نہیں کرتا بلکہ مندوب ہے۔مالک دیوار کو صرف تلقین کی گئی ہے کہ اسے ہمسایہ سے نیک تعلقات قائم کرنے میں سخاوت نفس سے کام لینا چاہیے۔اس ارشاد سے ہمسائے کو دیوار میں جبرا تصرف کرنے کا حق نہیں پیدا ہوتا۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۳۷) (عمدۃ القاری جز ۳۰ صفحه ۱۱۰۱۰)