صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 475
صحيح البخاری جلدم ۴۷۵ ٤٦- كتاب المظالم ٢٤٦٢ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ :۲۴۶۲ حي بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي نے کہا: ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔کہتے تھے : مَالِكٌ وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے مجھے بتایا۔اور یونس نے مجھے خبر دی۔أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْن عُتْبَةَ ان دونوں نے ) ابن شہاب سے روایت کی۔( أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: عَنْ عُمَرَ رَضِيَ (انہوں نے کہا : ) عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عباس نے انہیں خبر دی کہ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: حِيْنَ تَوَفَّى اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْأَنْصَارَ حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اجْتَمَعُوا فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَقُلْتُ وفات دی تو انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے۔لِأَبِي بَكْرِ: انْطَلِقُ بِنَا فَجِئْنَاهُمْ فِي میں نے حضرت ابو بکر سے کہا: ہمارے ساتھ چلیں سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ۔تشریح: اور ہم اُن کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں گئے۔اطرافه ٣٤٤٥ ،۳۹۲۸، ۴۰۲۱، ٦٨۲۹ ، ٦٨٣٠، ٧٣٢٣۔مَا جَاءَ فِي السَّقَائِفِ : سَقِيفَة کے معنے ہیں چھتی ہوئی جگہ جو گھر میں بطور دالان ، ڈیوڑھی یا چوپال استعمال ہو۔جہاں ملاقاتی وغیرہ آئیں یا رہگذر شدت گرمی کی وجہ سے وہاں آرام کریں۔عرب ممالک میں ایسے سقیفے (چوپال ) اب بھی موجود ہیں۔اس باب سے سابقہ مضمون ختم کیا گیا ہے اور اب خاص حقوق کا ذکر آئے گا۔بعض شارحین کا خیال ہے کہ چونکہ ایسی جگہیں مکان سے ملحق شارع عام پر واقع ہوتی ہیں اور اس میں کسی کی حق تلفی نہیں بلکہ اُن کے بنانے کی غرض ہی یہی ہوتی ہے کہ لوگ وہاں آئیں اور ایک دوسرے سے ملیں جلیں۔چوپال، بیٹھک، دیوان خانہ اور منڈوا ایسے مقام ہیں جن کا تعلق رفاہ عامہ سے ہے۔شادی بیاہ کے موقع پر ان سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔جھگڑے پکانے کے لئے پنچائت بھی ایسی جگہوں میں آکر بیٹھتی ہے۔ان جگہوں کی تعمیر میں کسی کی حق تلفی کا سوال پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے برعکس حقوق کی حفاظت و نگرانی میں ایسی جگہیں کارآمد ہوتی ہیں کہ وہاں آنے جانے والے لوگوں سے حالات معلوم ہوتے رہتے ہیں اور یہ واقفیت بھی تعلقات کی استواری میں محمد ہوتی ہے۔سقیفہ بنی ساعدہ بھی اسی قسم کی ایک جگہ تھی ، جہاں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتخاب خلافت عمل میں آیا۔عنوان باب ما جاء فی السَّقائِف کی ترکیب عمومیت پر دلالت کرتی ہے۔اس لئے اس کا تعلق کسی خاص مسئلہ سے نہیں اور یہ باب بطور فصل ہے۔اس کے بعد جو باب ہے اس کا تعلق خاص حقوق سے ہے جبکہ سقیفہ کا تعلق عام حقوق معاشرہ سے ہے۔شارحین کی یہ رائے ہے کہ عنوان باب واو عاطفہ سے سابقہ ابواب کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے اور اس میں صرف ایک ہی روایت کا حوالہ ہے جس کا تعلق رفاہ عامہ سے ہے۔محولہ بالا روایت خود امام بخاری نے کتاب الاشربة (باب الشرب