صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 477 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 477

صحيح البخاری جلدم ٤٦- كتاب المظالم موطاً اور سنن ابی داؤد وغیرہ کتب احادیث میں محولہ بالا حدیث مختلف الفاظ سے منقول ہے۔کسی میں العشب ہے جو جمع کا صیغہ ہے اور کسی میں منفر د لفظ الخَشَبَةُ ل ہے۔امام احمد بن حنبل کی روایت میں لَا يَمْنَعَن کا لفظ ہے کے جونی تاکید کا صیغہ ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۳۶، ۱۳۷) وَاللَّهِ لَاَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ اَكْتَافِكُمْ : بعض روایتوں میں بجائے اکتاف (کندھوں) بَيْنَ أَكْنَا فِيكُمْ ہے۔كَنف بمعنی پہلو اور لَا رُمِيَنَّ بِهَا کی جگہ لا لقينها سے یعنی بات بار بار ڈالتا رہوں گا تاکہ غفلت سے بیدار ہوں۔جیسے ایک غافل انسان بار بار ہوشیار کیا جاتا ہے۔ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: لَا ضُرِبَنَّ بِهَا بَيْنَ أَعْيُنِكُمْ وَإِنْ كَرِهْتُمْ میں تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ بات پھینکتا رہوں گا خواہ تم برامانو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ والوں کو ان الفاظ سے ان دنوں مخاطب کیا جب مروان نے انہیں اپنی غیر حاضری میں امیر مدینہ مقرر کیا تھا۔خطائی کا قول ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کی مراد یہ ہے کہ مدینہ کے لوگوں میں سے اگر کوئی اپنے ہمسائے کو نیک سلوک سے محروم کرے گا تو وہ لکڑی جس کے دیوار پر رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی، مالک کے کندھوں پر رکھوں گا۔گویا یہ تہیہ میں مبالغہ کی صورت ہے۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۳۷، ۱۳۸ ) (عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحه ۱۰) امام ابن حجر اور علامہ عینی نے حضرت عمر کے بعض فیصلے نقل کئے ہیں۔جن سے ظاہر ہے کہ انہوں نے شکایت کا علم ہونے پر ہمسایہ کو اس قسم کا حق ہمسائیگی حکما دلوایا۔اُن کے اس تعامل پر امام شافعی کی پہلے یہی رائے تھی کہ یہ حق واجب ہے لیکن بعد میں انہوں نے یہ رائے تبدیل کی اور فتوی دیا کہ یہ حق واجب نہیں بلکہ مندوب ہے۔یہی جمہور کا مذہب ہے۔امام بخاری کی بھی یہی رائے ہے۔قطع نظر اس بحث کے کہ یہ امر واجب ہے یا مندوب ؛ اولوالامر کا فرض ہے کہ معاشرہ کے تعلقات کی استواری قائم رکھیں اور ان کی عمدہ تربیت کی نگرانی کرتے رہیں تا امن عامہ میں کسی قسم کا رخنہ پیدا نہ ہو جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ضحاک بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کی شکایت پر فیصلہ کیا کہ محمد بن سلمہ کی زمین سے پانی کی نالی حکماً نکلوائی جائے جبکہ انہوں نے انکار کیا۔آپ نے فرمایا کہ ہمسائے کے کھیت میں پانی پہنچانے کی غرض سے نالی ضرور گزرے گی خواہ تمہارے پیٹ پر سے ہی گزارنی پڑے۔آپ کے الفاظ یہ ہیں: وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ۔(مؤطا امام مالک، کتاب الأقضية، باب القضاء في المرفق) حقوق ہمسائیگی سے متعلق صرف یہی ایک حدیث نہیں بلکہ اور بھی ارشادات نبویہ ہیں جن میں سے ایک ارشاد کے الفاظ یہ ہیں: مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يُوْصِيْنِى بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّتُهُ۔(بخاری کتاب الادب، باب الوصاة بالجار، روایت نمبر ۲۰۱۵) جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام پڑوسی کے بارے میں مجھے تاکید کرتے (سنن ابی داؤد، کتاب الأقضية، باب من القضاء) (مسند احمد بن حنبل، مسند ابى هريرة، جزء ۲ صفحه ۲۳۰) سنن ابی داؤد، کتاب الأقضية، باب من القضاء) التمهيد لابن عبد البر، حديث ثالث لابن شهاب عن عبد الرحمن الأعرج، جزء اصفحه ۲۲۹)