صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 474 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 474

صحيح البخاری جلدم ٤٦- كتاب المظالم اس امر کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: إِنْ أَبَوْا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوا كُرُهَا فَخُذُوا اگر وہ انکار کریں تو حق ضیافت ان سے لے لو۔(عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۸) اس سے ظاہر ہے کہ مہمان نوازی کا حق ان حقوق میں سے ہے جو عرف عام کے مطابق واجب ہے۔لیٹ نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے۔امام احمد بن حنبل کے نزدیک اس حق کا تعلق اہل بادیہ کے ساتھ مخصوص ہے۔جمہور کے نزدیک یہ سنت مؤکدہ ہے۔غرض فقہاء نے اس حق پر قیاس کر کے حقوق مظالم کے تعلق میں مختلف فتوے دیئے ہیں۔جن کا ملخص یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا حق غصب شدہ ہو تو وہ موقع پانے پر اپنا حق لے سکتا ہے۔لیکن جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ حق ضیافت پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے کیونکہ ان دونوں کی نوعیت میں فرق ہے۔حق ضیافت سے متعلق بھی فقہاء متفق نہیں۔بعض نے کہا ہے کہ اضطراری حالت میں ضیافت کا حق کیا جا سکتا ہے اور اُن میں سے ایک فریق کی یہ رائے ہے کہ ایسی صورت میں مہمان معاوضہ ادا کرے۔بعض نے کہا ہے کہ یہ اجازت اوائل اسلام میں دی گئی تھی جو فتوحات کے بعد منسوخ ہوئی صحیح مسلم میں ابو شریح کی ایک روایت منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میزبان پر مہمان نوازی کا حق ایک دن رات کے لئے مقرر فرمایا ہے ؟ مگر یہ حق واجب نہیں بلکہ بطور نوازش ہے۔حضرت مقدام بن معدی کرب کی مرفوع روایت میں یہ الفاظ ہیں : أَيْمَا رَجُلٍ أَضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُوْمًا فَإِنَّ نَصْرَهُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَتَّى يَأْخُذَ بِقِرَى لَيْلَةٍ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ۔(ابو داؤد۔کتاب الاطعمة، باب ماجاء في الضيافة) یعنی جو شخص کسی قوم کے ہاں مہمان ہو ، اور وہ مہمانی سے محروم رہے تو ہر مسلم پر اُس کی مدد واجب ہے اور وہ ایک رات کی مہمان نوازی کا حق اس کی کھیتی یا اس کی جائیداد سے لے سکتا ہے۔ایک دوسرے فریق کی یہ رائے ہے کہ مذکورہ بالا ارشاد کا تعلق محصلین زکوۃ کے حق ضیافت سے خاص ہے عام نہیں۔اُس وقت تک بیت المال کا انتظام نہ تھا۔بیت المال کے قیام کے ساتھ وہ وقتی اجازت موقوف ہو گئی۔غرض جب حق ضیافت کے بارے میں اس قدر اختلاف ہے تو حقوق مظالم کے تعلق میں مدار قیاس نہیں بنایا جاسکتا۔امام شافعی کے نزدیک حقوق مظالم کا تصفیہ صرف قاضی ہی کے ذریعہ سے کیا جاسکتا ہے۔ائمہ وفقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ مذکورہ بالا اجازت محدود ہے اور اس کا تعلق صرف مالی حقوق کے قصاص سے ہے، تعزیرات بدنی سے نہیں۔جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک صرف ایسے حقوق سے مشار الیہ اجازت کا تعلق ہے جو عرف عام کے تحت آتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفہ ۱۳۴، ۱۳۵) (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۹۷۸) بَاب ۱۹ : مَا جَاءَ فِي السَّقَائِفِ منڈوؤں (چوپال) کی نسبت جو مروی ہے وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ بنی ساعدہ وَأَصْحَابُهُ فِي سَقِيْفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ۔کے سقیفہ (چوپال ) میں بیٹھے۔ے (ترمذی، کتاب السير عن رسول الله، باب ما يحل من أموال أهل الذمة) (مسلم كتاب اللقطة، باب الضيافة ونحوها)