صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 22
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۲ ۳۴- كتاب البيوع فَقَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ۔فَقَالَ: تَأْتِينِي واپس چلے گئے ہیں۔پھر حضرت عمر نے اُن کو بلایا ( اور عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجَالِس دریافت کیا ) تو ( حضرت ابو موسیٰ نے ) کہا: ہمیں یہی حکم الْأَنْصَارِ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوْا لَا يَشْهَدُ ہوتا تھا کہ جب اجازت نہ ملے تو واپس چلے جایا کریں) تو حضرت عمر نے کہا: آپ کو اس بات پر شہادت لانی لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيْدٍ ہوگی۔چنانچہ وہ مجالس انصار کی طرف چلے گئے اور الْخُدْرِيُّ فَذَهَبَ بِأَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ اُن سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس معاملہ میں آپ فَقَالَ عُمَرُ: أَخَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ کے لئے کوئی شہادت نہیں دے گا ، مگر وہ جو ہم سب أَمْرٍ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں سے کمسن ہے۔یعنی ابوسعید خدری۔تب وہ حضرت أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ يَعْنِي ابو سعيد خدرى كکو ساتھ لے گئے۔(اُن کی بات سن کر ) حضرت عمرؓ نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد مجھے سے پوشیدہ رہ گیا ؟ منڈیوں میں لین دین نے مجھے غافل رکھا۔اس سے اُن کی یہ مراد تھی کہ وہ تجارت الْخُرُوجَ إِلَى التِّجَارَةِ۔اطرافه: ٦٢٤٥، ٧٣٥٣۔کے لئے باہر جایا کرتے تھے۔تشريح : الْخُرُوجُ فِي الحِجَارَةِ: اب میری رائے ہے کہ اس سے امام باری ر ہال علی کا مقصد یہ بات بتانا ہے کہ تجارت کے لئے نقل وحرکت ایک ضروری امر ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بوجہ سفر جو محرومی ہو جایا کرتی تھی، اس سے چارہ نہ تھا۔شریعت اسلامیہ اس سے نہیں روکتی۔اُن کے نزدیک اس میں زاہدین کا رڈ ہے جو غلو سے کام لیتے ہیں۔ابن بطال نے بھی ان کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۳۷۸) قرآن مجید کا ارشاد فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ۔(الجمعة: 1) اس بارے میں نص صریح ہے جس کا حوالہ پہلے باب میں گذر چکا ہے اور یہاں اس کا اعادہ اس غرض سے ہے کہ یہ حکم وجوب کی صورت رکھتا ہے۔تجارت کے لئے سفر لازمی ہے۔عمدہ سے عمدہ اور سستے دام اشیاء کی فراہمی سفر کی متقاضی ہے۔