صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 472 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 472

صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۷۲ ٤٦- كتاب المظالم رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس میں چار خصلتیں ہوں كَانَ مُنَافِقًا أَوْ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِنْ وہ منافق ہے یا جس میں چار میں سے ایک خصلت پائی أَرْبَعٍ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ جاتی ہو تو اُس میں نفاق کی بھی ایک خصلت ہوگی ، جب تک کہ وہ اُسے چھوڑ نہ دے۔ جب بات کرے حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا گا تو جھوٹ بولے گا۔ جب وعدہ کرے گا تو خلاف وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا ورزی کرے گا۔ اور جب عہد کرے گا تو دھوکا دے خَاصَمَ فَجَرَ۔ اطرافه: ٣٤، ٣١٧٨۔ گا۔ اور جب ؟ جھگڑے گا تو بد زبانی کرے گا۔ تشریح : إِذَا خَاصَمَ فَجَرَ اس باب میں باب ۱۵ میں بیان شدہ شخص کے بارے میں مزیدار کا ذکرکیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایسے شخص کے اخلاق بگڑ جائیں گے، جس سے وہ ایک قیمتی سرمایہ زندگی گنوا دے گا۔ جھگڑا کرنے میں نہ صرف یہ کہ بد زبانی پر اتر آئے گا بلکہ وہ نفاق جیسے مرض میں بھی مبتلا ہوگا جو گھن کی طرح اُس کے سارے اخلاق کو تباہ کر دے گا۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب الایمان باب ۲۴ روایت نمبر ۳۳ ۳۴ باب ۱۸ : قِصَاصُ الْمَظْلُوْمِ إِذَا وَجَدَ مَالَ ظَالِمِهِ مظلوم کا بدلہ لینا جب وہ اپنے ظالم کا مال پائے وَقَالَ ابْنُ سِيْرِينَ: يُقَاصُّهُ وَقَرَأَ : وَإِنْ اور (محمد بن سیرین نے کہا: اس سے اپنا حق برابر عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِه لے لے۔ اور یہ آیت پڑھی: اگر تم سزا دو تو اتنی سزادو (النحل: ۱۲۷) جتنی کہ تم کو تکلیف دی گئی تھی ۔ ٢٤٦٠ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۴۶۰ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ أَنَّ نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے۔ (انہوں عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : جَاءَتْ نے کہا : ) عروہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ : يَا رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئیں۔ رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسَيْكٌ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ابوسفیان بہت بخیل آدمی فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ ہے۔ تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے اگر میں اُس کے مال