صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 471
صحيح البخاري - جلدم ضي ٤٦- كتاب المظالم اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہ اُن کی ماں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جو نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ کی زوجہ تھیں، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ آپ نے اپنے حجرہ کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ سَمِعَ حُصُوْمَةٌ بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ دروازے پر کچھ جھگڑا سنا۔تو آپ اُن آدمیوں کے پاس آئے اور آپ نے فرمایا: میں ایک بشر ہی ہوں اور فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي میرے پاس ایک فریق آتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ تم میں الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ سے کوئی دوسرے سے اپنے مطلب کو زیادہ خوبی سے مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَدَقَ فَأَقْضِيَ بیان کرنے والا ہو اور میں سمجھ لوں کہ اس نے سچ کہا ہے اور اس کے بیان پر اس کے حق میں فیصلہ کردوں۔لَهُ بِذَلِكَ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ اس لئے اگر میں نے ایک شخص کو کسی مسلم کا حق فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ نا واجب طور پر ) دلانے کا فیصلہ کر دیا تو یقین کر لو کہ وہ صرف آگ کا ہی ایک ٹکڑا ہے جو اُسے دیا جا رہا لِيَتْرُكْهَا۔فریح: ہے۔چاہے اسے لے لے، چاہے اسے چھوڑ دے۔اطرافه : ٢٦٨٠ ، ٦٩٦٧ ٧١٦٩، ۷۱۸۱، ۷۱۸۵۔اِثْمُ مَنْ خَاصَمَ فِى بَاطِلِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ: باب ۱۵ میں جس شخص کا ذکر تھا، اس باب میں ایسے ہی شخص کے متعلق ایک بات بتائی گئی ہے کہ وہ دوسروں کا حق مارنے کے لئے چرب زبانی سے کام لیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ایسا شخص جو اپنی چرب زبانی اور چالا کی سے کسی کا حق لیتا ہے تو گویا وہ آگ مول لیتا ہے یعنی فساد کی بنیاد ڈالتا ہے۔جس کے بدنتائج آگ کی طرح تباہ کن ہوں گے۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُس کے حق میں فیصلہ دے دینا بھی اُس کے لئے جواز کی صورت پیدا نہیں کر سکتا۔بَابِ ۱۷ : إِذَا خَاصَمَ فَجَرَ جب کوئی جھگڑے اور گالی دے ٢٤٥٩: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ :۲۴۵۹ بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ سلیمان سے سلیمان نے عبداللہ بن مرہ سے عبداللہ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبد اللہ بن عمرو