صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 464 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 464

صحيح البخاري - جلدم ٤٦- كتاب المظالم اُبھرتی اور ابھر کر روک بن جاتی اور فساد پھیلاتی ہے۔اِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا (النساء:۱۲۹) اگر تم حسن سلوک سے کام لو اور روک پیدا کرنے والے اسباب سے بچ تو نہ جھگڑا پیدا ہو اور نہ تعلقات بگڑیں۔نہ میاں بیوی کی حق تلفی کرے، نہ بیوی میاں کی، بلکہ صلح و آشتی کی خاطر کسی کو اپنا حق بھی ترک کرنا پڑے تو کر دے۔آیت کا یہ مفہوم مد نظر رکھنے سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے استدلال کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے کہ معاشرت منزلی کی بہتری کے لئے مسئلہ کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے جو فقہی پہلو پر مقدم رہنا چاہیے۔امام بخاری کے استدلال پر بعض شارحین نے اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے ظلم سے سبکدوشی حاصل کرنے کا قیاس جو ضلع پر کیا ہے ، اُن کا یہ قیاس مع الفارق ہے۔ابن منیر نے یہ اعتراض رڈ کیا اور کہا ہے کہ یہ استدلال لطیف ہے اور اصلاح ذات البین کی خاطر اگر کوئی حق چھوڑا جاتا ہے تو پھر ایک دفعہ چھوڑنے کے بعد اس کا مطالبہ اخلاقاً مناسب نہیں۔امام بخاریؒ کے قیاس کا دارو مدار تعلقات کی اصلاح ہے جو بہر حال مقدم ہونی چاہیے۔جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تفسیر آیت سے واضح ہے۔امام ابن حجر نے بھی ان کے استدلال لطیف کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۲۷) مزیددیکھئے کتاب الصلح باب ۲ روایت نمبر ۲۶۹۴۔رَضِيَ بَاب ۱۲ : إِذَا أَذِنَ لَهُ أَوْ أَحَلَّهُ وَلَمْ يُبَيِّنْ كَمْ هُوَ اگر کوئی مظلوم ظالم کو اجازت دے یا معاف کر دے اور یہ نہ بیان کرے کہ وہ (اجازت یا معافی ) کتنی ہے؟ ٢٤٥١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۴۵۱ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي حَازِمِ بنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو حازم بن دینار دِينَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيّ سے ، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابِ کو کوئی پینے کی چیز دی گئی تو آپ نے اس میں سے پیا فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِيْنِهِ غُلَامٌ وَعَنْ اور آپ کے داہنی طرف ایک لڑکا اور آپ کے بائیں يَسَارِهِ الْأَشْيَاحُ فَقَالَ لِلْغُلَامِ : أَتَأْذَنُ طرف عمر رسیدہ لوگ تھے۔تو آپ نے اس لڑکے سے لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا پوچھا: کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں بیان کو دے وَاللَّهِ يَا رَسُوْلَ اللهِ لَا أُوْثِرُ بِنَصِيبي دوں؟ اس لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم نہیں۔یا رسول اللہ ! مِنْكَ أَحَدًا قَالَ: فَتَلَّهُ رَسُوْلُ اللهِ آپ سے جو حصہ مجھے ملا ہے وہ تو میں اپنے آپ کو