صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 465
صحيح البخاری جلدم ۴۶۵ ٤٦- كتاب المظالم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ۔چھوڑ کر کسی اور کو دینے کا نہیں۔کہتے تھے: رسول اللہ صلى الله نے اس کے ہاتھ میں وہ ( پیالہ ) رکھ دیا۔اطرافه ٢٣٥١، ٢٣٦٦، ٢٦٠٢، ٢٦٠٥، ٥٦٢٠۔تشریح: إِذَا أَذِنَ لَهُ اَوْ اَحَلَّهُ وَلَمْ يُبَيِّنُ كَمُ هُوَ : مسئلہ معنونہ کا تعلق بابا کے عنوان سے ہے جو استفتاء کی صورت میں قائم کیا گیا ہے۔امام بخاری نے عنوان قائم کرتے ہوئے جملہ شرطیہ کی صورت میں عنوان رکھا ہے اور عنوان میں اَذِنَ لَهُ اور اَحَلَّه کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔یعنی ایک حق جو اخلاقاً قائم ہو چکا ہو؟ اس میں یہ ضروری نہیں کہ مقدار بھی بیان کی جائے۔جس روایت سے مسئلہ معنونہ کے تعلق میں استدلال کیا گیا ہے؛ وہ کتاب المساقات بابا روایت نمبر ۲۳۵ میں گزر چکی ہے جہاں شارع علیہ السلام کی ہدایت کے تحت ایک اخلاقی حق کا ذکر وارد ہوا ہے اور جس کی آپ نے خود بھی پابندی فرمائی ہے۔اس اخلاقی حق سے متعلق اجازت دینا نہ دینا حق والے کے اختیار میں ہے اور ایسے امور میں یہ بتانا ضروری نہیں کہ اس حد تک اجازت ہے۔اس باب میں دراصل ان فقہاء کا جواب دیا گیا ہے جو استبراء یا استحلال کا مسئلہ بطور قاعدہ کلیہ حل کرنا چاہتے ہیں۔اس تعلق میں کتاب العتق تشریح باب ۱۱ روایت نمبر ۲۵۳۷ بھی دیکھئے۔باب ۱۳ : إِثْمُ مَنْ ظَلَمَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ اس شخص کا گناہ جو کسی زمین سے ناجائز طور پر کچھ لے لے ٢٤٥٢ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۴۵۲ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ انہوں نے کہا: طلحہ بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ عبد الرحمن بن عمر و بن سہل نے ان کو بتایا کہ حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ ظَلَمَ مِنَ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے : جس الْأَرْضِ شَيْئًا طُوقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِيْنَ۔شخص نے کسی زمین سے ناجائز طور پر کچھ لے لیا تو وہ طرفه: ۳۱۹۸ سات زمینیں بن کر اس کے گلے کا طوق ہوگا۔٢٤٥٣ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۲۴۵۳: ہم سے ابو معمر نے بیان کیا (ابو معمر نے کہا :)