صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 463 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 463

صحيح البخاری جلد ۴ سال سوم ٤٦- كتاب المظالم تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ بِمُسْتَكْثِرِ وه اپنا حق چھوڑ سکتی ہے۔(حضرت عائشہ ) کہتی تھیں: مِنْهَا يُرِيْدُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَتَقُولُ : أَجْعَلُكَ کوئی شخص ایسا ہو کہ جس کے نکاح میں ایسی عورت ہے جس سے وہ فائدہ اٹھانے کی امید نہیں رکھتا اور چاہتا ہے کہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور وہ عورت اسے کہہ دے: میں تجھے اپنا حق معاف کرتی ہوں تو یہ مِنْ شَأْنِي فِي حِلَّ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ۔آیت اس بارے میں نازل ہوئی تھی۔اطرافه: ٢٦٩٤، ٤٦٠١، ٥٢٠٦۔تشریح : إِذَا حَلَّلَهُ مِنْ ظُلْمِهِ فَلَا رُجُوع فيه: طلع بھی ایک عقد لازم ہے۔ازدواجی زندگی کے فِيْهِ: حقوق اور ان کی ذمہ داری سے اگر کوئی عورت آزادی حاصل کرنا چاہے یا اپنے حقوق سے دستبردار ہونا ط چاہے یا خانگی زندگی میں سلجھاؤ کی صورت پیدا کرنے کی غرض سے خاوند کو اپنی باری معاف کر دے یا حق مہر چھوڑ کر ضلع حاصل کر لے تو پھر وہ اپنے ازدواجی حقوق کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔حقوق مظالم کے بارے میں امام بخاری کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر ظلم کرنے والا مظلوم سے کوئی حق معاف کرالے تو پھر مظلوم کا رجوع جائز نہیں اور انہوں نے اس کے لئے اس آیت سے استدلال کیا ہے جو روایت زیر باب میں وارد ہوئی ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأَحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّع * وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (النساء:۱۲۹) اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے بد معاملگی یا بے توجہی کا اندیشہ ہو تو اُن دونوں پر گناہ نہیں کہ وہ کسی طریق پر آپس میں صلح کر لیں۔اور صلح سب سے بہتر ہے۔اور لوگوں کے نفسوں میں بخل کا خیال پیدا کر دیا گیا ہے اور اگر تم نیک کام کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ( یاد رکھو) جو تم کرتے ہو، اس سے اللہ یقیناً آگاہ ہے۔یہ ارشاد باری تعالی تدریجی صورت رکھتا ہے۔اس میں ادنی نیکی سے اعلیٰ نیکی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ازدواجی تعلقات کی خرابی کا اصل سبب بیان کر کے اس سبب کے دور کرنے کا علاج لطیف پیرایہ میں سمجھایا گیا ہے۔لفظ نُشُوز کے معنے ہیں نفرت، بات بات پر بگڑنا اور جھگڑنا۔اغراض کے معنے ہیں بے رخی سے پیش آنا۔دونوں صورتوں میں سے جب کوئی صورت پیدا ہو تو فرماتا ہے کہ اس کی اصلاح کی جائے اور صلح کوئی گناہ کی بات نہیں کہ اس سے احتراز کیا جائے بلکہ تعلقات کی خوشگواری ایک نہایت اچھی چیز ہے۔تعلقات بگڑنے کا بڑا سبب فتح نفس ہے۔شیخ کے معنے بخل کئے جاتے ہیں جو پورے مفہوم پر حاوی نہیں۔شیخ کے معنے ہیں : حرص مال اور خرچ کرنے میں انتہائی تنگی، نہ کھلانا ہ کھانا عورت کا مطالبہ مرد کی قدرت سے زیادہ ہو یا مرد کنجوس ہو اور عورت کی خانگی اور ذاتی ضروریات پوری کرنے میں بخل سے کام لے تو تعلقات میں کھچاؤ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور بڑھتے بڑھتے نشوز و اعراض کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ (النساء:۱۲۹) جب نفوس کا طلب و خواہش اور حرص و کنجوسی کے لحاظ سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو اس تصادم کا نتیجہ فساد ہے۔جو نہی ضرورت پورا کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے؛ شح نفس