صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 460 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 460

صحيح البخاری جلد ۴ ٤٦- كتاب المظالم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَا إِلَى في صلى اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف الْيَمَنِ فَقَالَ: اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّهَا بھیجا اور آپ نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو لَيْسَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ۔ کیونکہ اُس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں۔ اطرافه: ۱۳۹۵ 1458 ، 1496 ، ٤٣٤٧، ۷۳۷۱، ۷۳۷۲۔ تشريح : الاتِقَاءُ وَالْحَذَرُ مِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ : امام بخاری نے مظالم کے تعلق میں یہ ابواب بطور تمہید عمدہ ترتیب میں قائم کئے ہیں۔ مظلوم کی دعا قبول ہونے - ہونے کے تعلق میں ابن ابی شیبہ نے حضرت ابو ہریرہ سے جو روایت نقل کی ہے اُس کے یہ الفاظ ہیں : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا فَفُجُورُهُ عَلَى نَفْسِهِ۔ (مصنف ابن ابي شيبة۔ كتاب الدعاء، باب في دعوة المظلوم، جزء ۶ صفحہ ۴۸) مظلوم کی دعا مقبول ہوتی ہے خواہ وہ بدکار ہی ہو۔ اُس کی بدکاری کا وبال اس کی جان پر ہوگا۔ اگر وہ مظلوم ہو تو اس کی بدی اس کی دعا میں حائل نہیں ہوگی ۔ امام بخاری کی روایت میں یہ الفاظ نہیں۔ باب ۱۰ : مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ عِنْدَ الرَّجُلِ فَحَلَّلَهَا لَهُ هَلْ يُبَيِّنُ مَظْلَمَتَهُ ؟ جس شخص کو کسی شخص کے ظلم کا شکوہ ہے اور ظالم اپنے ظلم کی معافی لے لے تو کیا مظلوم اس کے ظلم کو بیان کر سکتا ہے؟ ٢٤٤٩ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۲۴۴۹ آدم بن ابی ایاس نے ہمیں بتایا ۔ ابن ابی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِنْبِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ذئب نے ہم سے بیان کیا کہ سعید مقبری نے ہمیں الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بتایا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ جس شخص نے دوسرے کی بے عزتی کی ہو یا کوئی اور عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ ظلم کیا ہو تو چاہیے کہ ظلم کرنے والا اُس سے آج دنیا قَبْلَ أَنْ لَّا يَكُوْنَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمْ إِنْ میں معاف کرالے، پیشتر اس کے کہ جب نہ دینار ہوگا كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ نہ در ہم اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوگا تو جس قدر مظلوم مَظْلَمَتِهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ پر ظلم ہوگا ، اس کے مطابق اس کے نیک اعمال سے عمدۃ القاری میں اس جگہ ”لا حد“ کا لفظ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحه ۲۹۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔