صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 461
صحيح البخاري - جلد ۴ ۶۱ ٤٦- كتاب المظالم مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ۔ لے لیا جائے گا اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کی برائیاں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: اسماعیل بن ابی أُوَيْسٍ: إِنَّمَا سُمِّيَ الْمَقْبُرِيَّ لِأَنَّهُ كَانَ اُویس کہتے تھے: (سعید کا) نام مقبری اس لئے ہوا يَنْزِلُ نَاحِيَةَ الْمَقَابِرِ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ : کہ انہوں نے مقبرہ کے پاس ڈیرہ لگا لیا تھا۔ وَسَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ هُوَ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ ابو عبد الله نے کہا: اور سعید مقبری بنی لیٹ کے آزاد وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ وَاسْمُ کردہ غلام تھے اور وہ وہی سعید ہیں جو ابوسعید کے أَبِي سَعِيدٍ كَيْسَانُ۔ طرفه: ٦٥٣٤- بیٹے تھے اور ابوسعید کا نام کیسان ہے۔ تشريح : مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ عِنْدَ الرَّجُلِ فَحَلَّلَهَا لَهُ هَلْ يُبَيِّنُ مَظْلَمَتَهُ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہلی نصیحت فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ ظالم ہ ظالم خود اپنے ظلم کا ازالہ کرے، خواہ تلافی کے خودا۔ ذریعہ یا معافی مانگ کر پیشتر اس کے کہ مظلوم اللہ سے جو احکم الحاکمین ہے، فریاد کرے۔ یا کسی دنیوی واسطے سے دادرسی یاک چاہے۔ ورنہ موت کے بعد محاسبہ مذکورہ بالا صورت میں ہوگا کہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کے حق میں محسوب ہو کر اس کے گناہوں کا کفارہ ہوں گی اور ظالم اپنی پاداش بھگتے گا۔ لیکن اگر ظالم کے نیک عمل نہ ہوں تو مظلوم کے گناہ کم کر کے اُن کا بار ظالم پر ڈال دیا جائے گا کیونکہ اس نے دنیا میں دوسرے کا حق غصب کیا تھا۔ اس لئے ظلم کی پاداش میں اس کا حق غصب کیا جائے گا۔ اس باب کا عنوان حرف استفہام کل سے قائم کیا گیا ہے کہ آیا مظلوم کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی حق تلفی کی صراحت کر کے ظالم کو معافی دے یا مبہم صورت میں معاف کرے اور ایک دفعہ معافی دینے کے بعد ظالم کے خلاف پھر دعوی کر سکتا ہے یا نہیں؟ یا اس کے خلاف ظلم کا ذکر یا طعن و تشنیع جائز ہے یا نہیں ؟ بعض فقہاء کے نزدیک مظلوم کے لیے جائز نہیں کہ تلافی ہونے یا معافی دینے کے بعد ظلم کا ذکر کرے اور بعض کے نزدیک جائز ہے اور اس تعلق میں انہوں نے ظلم کی نوعیت میں فرق کیا ہے۔ ظلم مالی بھی ہو سکتا ہے، بدنی بھی اور ہتک عزت کی صورت میں بھی ۔ اور اُن کی رائے میں جہاں مالی ظلم ہو، وہاں تلافی کے وقت اُس کی معین صورت ہونی چاہیے تا غصب کیا ہوا مال واپس دلا با ا ہوا مال واپس دلایا جا سکے یا کوئی ۔ یا کوئی مالی حق روکا ہوا ہو تو اُس کی تلافی ہو سکے اور اگر غصب کردہ شئے تلف ہو گئی ہو تو جس صورت میں بھی ممکن ہو دلائی جائے تا ظالم اپنے ظلم کے نتیجہ سے بری الذمہ ہو سکے۔ سعید بن مسیب استحلال و استبراء کے قائل نہیں تھے۔ استخلال کے معنے ہیں ظلم کو حلال قرار دینا یعنی یہ کہنا کہ میری طرف سے غصب کردہ مال حلال ہے۔ اور استبراء کے معنے بریت کا اظہار کرنا۔ عطاء بن بیسار ہتک عزت ، غیبت