صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 459
صحيح البخاری جلدم ۴۵۹ بَابِ ۸ : الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے ٤٦- كتاب المظالم ٢٤٤٧: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۲۴۴۷ احمد بن یونس نے ہمیں بتایا۔عبدالعزیز حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ أَخْبَرَنَا ماجشون نے ہم سے بیان کیا۔عبداللہ بن دینار نے عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عُمَرَ ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عنہما سے، حضرت عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: ظلم قیامت کے دن وَسَلَّمَ قَالَ : الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔اندھیرے ہوں گے۔فریح: الظُّلُمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: كنا نتیجہ ہے جہالت کا۔قرآن مجید میں علم کی نور سے اور جہالت کی ظلمت سے تمثیل دی گئی ہے کہ معرفت کے ساتھ حق و باطل ، شائستہ و ناشائستہ، کرنی اور نا کر دنی کے درمیان فرق کرنے کی قابلیت اسی طرح پیدا ہوتی ہے جس طرح روشنی میں انسان مختلف اشیاء میں تمیز کرتا ہے مگر اندھیرے میں تمیز و شناخت کی یہ قدرت نہیں رہتی۔قیامت کے دن یہی اعمال نور اور ظلمت کی شکل میں متمثل ہوں گے۔اس تعلق میں اسلامی اصول کی فلاسفی ”پہلا دقیقہ معرفت - روحانی خزائن جلدہ اصفر ۴ ۴۰ تا۴۲۰۶ بھی دیکھئے۔جہاں نورانی اور ظلمانی جسموں کے تعلق میں ذاتی مشاہدہ کا بیان ہے۔عربی الفاظ اپنے ساتھ معانی کا فلسفہ رکھتے ہیں۔لفظ ظلم کو ظلمَةٌ سے مماثلت ہے کہ ظلم کرنے والا نور بصیرت کھو بیٹھتا ہے اور اندھا ہو جاتا ہے۔اپنے پرائے میں فرق نہیں کرتا۔اس لئے ظلم کی پاداش بھی اس کے مماثل ہوگی۔باب 4 : الإِيْقَاء وَالْحَذَرُ مِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُوم مظلوم کی فریاد سے ڈرنا اور بچنا ٢٤٤٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ۲۴۴۸: یحیی بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔وکیع نے ہم حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ سے بیان کیا کہ زکریا بن اسحاق مکی نے ہمیں بتایا۔الْمَكِّيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِي انہوں نے يحي بن عبد اللہ بن صیفی سے، سجی نے عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ حضرت ابن عباس کے غلام ابومعبد سے، انہوں نے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ