صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 458 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 458

صحيح البخاری جلدم ۴۵۸ ٤٦- كتاب المظالم السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ گرفت نہیں ہوگی۔مؤاخذہ تو اُن لوگوں سے ہوگا جو وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق اپنے حدود أوليك لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُ وَلَمَنْ صَبَرَ سے تجاوز کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو دردناک سزا وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ہوگی۔اور جس نے صبر کیا اور پردہ پوشی کرتے ہوئے وَمَنْ يُضْلِلِ الله فَمَا لَهُ مِنْ وَليَّ مِنْ در گزر کیا تو یہ بہت ہی بڑی خوبیوں میں سے ہے۔بَعْدِهِ وَتَرَى الظَّلِمِيْنَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ { اور جسے اللہ گراہ ٹھہرا دے تو اُس کے لیے اس کے يَقُولُونَ هَلْ إِلَى مَرَةٍ مِنْ سَبِيلٍ بعد کوئی مددگار نہیں۔} اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ (الشوری: ٤١-٤٥) جونہی وہ عذاب دیکھیں گے تو وہ چیخ اٹھیں گے۔کیا ( دنیا میں ) واپس لوٹنے کی کوئی راہ ہے؟ تشریح: سے متعلق ہے، اس باب کے عنوان میں درج کر کے دونوں حکموں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اسلام کی تعلیم افراط و تفریط سے پاک اور حد وسط اور اعتدال پر واقع ہے۔تورات نے گردن کش بنی اسرائیل کی اصلاح میں انتقام پر زور دیا ہے۔جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ، دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ ، پاؤں کے بدلے پاؤں، جلانے کے بدلے جلانا، زخم کے بدلے زخم اور چوٹ کے بدلے چوٹ۔( خروج باب ۲۱ آیات ۲۴، ۲۵) اور انجیل نے سنگ دل اور کینہ تو زیبنی اسرائیل کی اصلاح کی غرض سے انتہائی حد تک صبر کی تلقین کی ہے کہ " تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا؟ بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے، دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۔“ (متی باب ۵ آیات ۳۸، ۳۹) لیکن اسلام نے اس کے برعکس موقع ومحل کی رعایت سے دونوں تعلیموں کو جمع کر کے شریعت کی کامل صورت پیش کی ہے۔اس تعلق میں اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۴۰ تا ۳۵۸ نیز احمدیت یعنی حقیقی اسلام - انوار العلوم جلد ۸ صفحه ۲۲۰ تا ۲۴۰ بھی دیکھئے۔امام بخاری نے یہ دوابواب ( باب ۷،۶) قصاص و انتظام اور عفو و درگذر کے تعلق میں قائم کر کے قرآن مجید کی آیات کے حوالے سے اصولی احکام کی طرف توجہ دلائی ہے جو بطور قاعدہ کلیہ ہیں۔عَفْرُ الْمَظْلُوم: سورۃ النساء اور سورۃ الشوریٰ کی محولہ بالا آیات کا وہ حصہ جو عفو، در گذر اور چشم پوشی