صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 457
صحيح البخاری جلدم ۴۵۷ ٤٦- كتاب المظالم ہوتا ہے تو وہ انتقام لیتے ہیں، مدد طلب کرتے ہیں اور مدد دیتے ہیں۔انتصر کے چار معنے ہیں: اِمْتَنَعَ مِنْ ظَالِمِهِ : اپنے ظالم سے خود حفاظتی کی تدبیر کی۔انتَقَمَ مِنْ عَدُوّهِ: اپنے دشمن سے انتقام لیا۔اِسْتَظْهَرَ عَلَى خَصْمِهِ : اپنے مد مقابل کے خلاف مدد طلب کی۔غَلَبَ وَفَازَ بِالنَّصْرِ: غالب ہوا اور مدد حاصل کی۔محولہ بالا آیت بلحاظ سیاق و سباق قصاص مظالم کے مضمون سے تعلق رکھتی ہے۔اس سے پہلے اور بعد مومنوں کے چند اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔اول: مومن اپنے رب پر تو کل رکھتے ہیں۔دوم: گناہوں اور بدیوں سے بچتے ہیں۔سوم : اگر انہیں غصہ آئے تو اپنا غصہ دباتے ہیں اور پردہ پوشی سے کام لیتے ہیں۔چہارم: اپنے رب کی آواز سنتے اور قبول کرتے ہیں اور باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔پنجم : ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔ششم : مال و دولت اور قوت سے جو انہیں عطا ہوئے ہیں خرچ کرتے ہیں۔ہفتم: جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ مغلوب ہو کر بیٹھ نہیں جاتے بلکہ ظلم کا مقابلہ اور ازالہ کرتے ہیں۔ہشتم: انتقام میں حد سے تجاوز نہیں کرتے بلکہ ظلم کے مطابق بدلہ لیتے ہیں۔نہم: انتقام میں عفو اور اصلاح مدنظر رکھتے ہیں۔ظالم سے انتقام لینے کے بعد اس سے کوئی سروکار نہیں رکھتے اور نہ اس پر سختی کرتے ہیں بلکہ غلبہ اور قدرت حاصل ہونے کے بعد عفو اور احسان سے کام لیتے ہیں تا کہ دوسروں کی اصلاح ہو اور عداوت محبت میں تبدیل ہوکر كَانَهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ) (حم السجدہ : ۳۵) کے مطابق ان کا دشمن دوست بن جائے۔یہ سب ایک مومن کے اوصاف حمیدہ ہیں۔ان کے پیش نظر مذکورہ بالا استفتاء وجوب یا عدم وجوب نصرت کا جواب آسان ہے۔اس باب کی دوسری آیت کی تفسیر میں ابراہیم مخفی کا حوالہ عبد بن حمید اور سفیان بن عیینہ سے منقول ہے کہ سلف صالح ذلت کی زندگی برداشت کرنا نہیں چاہتے تھے۔یعنی ظلم کا مقابلہ کرتے تھے۔(فتح الباری جزء۵ صفحه ۱۲۴) بَابِ : عَفْوُ الْمَظْلُوْمِ مظلوم کا معاف کر دینا لِقَوْلِهِ تَعَالَى : اِنْ تُبْدُوا خَيْرًا اَوْ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر تم نیکی کوکھلم کھلا کر و تُخْفُوهُ اَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءِ فَإِنَّ اللهَ كَانَ یا اس کو چھپاؤ یا تم برائی سے درگذر کرو تو اللہ بہت عَفُوا قَدِيرًا (النساء: ١٥٠) در گذر کرنے والا، بہت ہی قدرت رکھنے والا ہے۔وَجَزْوَا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا (اور یہ فرمانا: ) برائی کا بدلہ اتنا ہی ہے۔اور جس نے وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ در گذر کیا اور اصلاح کی تو اُس کا ثواب اللہ کے ذمہ الظَّلِمِينَ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ ہے۔یاد رکھو وہ ظالموں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔اور جو فَأُولَبِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيلٍ إِنَّمَا مظلوم ہونے کے بعد اپنا بدلہ لے تو ایسے لوگوں پر کوئی