صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 456
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۵۶ ٤٦- كتاب المظالم امام بخاری نے عنوان باب مطلق رکھا ہے۔ اس لئے کہ تعمیل حکم کا تعلق حالات سے ہے اور مخاطبین کی قدرت با یا عدم قدرت مندرجہ بالا حدیث سے ظاہر ہے۔ کیونکہ نصرت مظلوم ، عیادت نماز جنازہ، شمیت (یعنی چھینک کا جواب کلمہ دعا سے دینا) ، سلام کا جواب سلام سے دینا، دعوت قبول کرنا قسم دینا، دلانا اور اسے پورا کرنا یہ سب امور از قسم فرائض مندوب ہیں۔ باب کی دوسری روایت سے ظاہر ہے کہ یہ باتیں ان اُمور میں سے ہیں جو معاشرہ کی مضبوطی کے لئے ضروری ہیں۔ انہیں ترک کرنا یا ان میں سہل انگاری سے کام لینا معاشرہ کی کمزوری کا باعث ہے۔ بَاب ٦ : الإِنْتِصَارُ مِنَ الظَّالِمِ ظالم سے بدلہ لینا لِقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ : لَا يُحِبُّ الله کیونکہ اللہ جل ذکرۂ فرماتا ہے: اللہ تعالیٰ بری بات الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ کا اعلان پسند نہیں کرتا مگر جو مظلوم ہو، وہ اظہار ظُلِمَ وَكَانَ اللهُ سَمِيعًا عَلِيمًا کر سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سمیع و علیم ہے۔ (اور یہ بھی (النساء : ١٤٩) وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ فرماتا ہے: ) وہ لوگ جب اُن پر ظلم ہوتا ہے تو وہ الْبَغْ هُمْ يَنْتَصِرُونَ (الشورى: ٤٠) مناسب بدلہ لیتے ہیں ۔ قَالَ إِبْرَاهِيمُ : كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ ابراهیم (نخعی) نے کہا: (صحابہ) بہت ناپسند کرتے تھے کہ وہ کمزور سمجھے جائیں۔ جب وہ قابو پاتے تو يُسْتَذَلُّوا فَإِذَا قَدَرُوْا عَفَوْا ۔ درگزر کرتے۔ تشريح الانْتِصَارُ مِنَ الظَّالِمِ : یہ اب بھی فقہاء کے ذکورہ بالاختلاف فرض میں فرض مندوب یا سنت مؤکدہ سے ہی متعلق ہے۔ چنانچہ اس کے تحت حسب معمول کوئی الگ روایت درج نہیں کی گئی۔ -------- عنوان باب میں دو آیتیں اور ایک قول کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پہلی آیت یہ ہے: لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ( النساء: ۱۴۹) اللہ بری بات کا اظہار پسند نہیں کرتا مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو۔ ( وہ ظلم کا اظہار کر سکتا ہے۔ اور اللہ بہت سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔ دوسری آیت یہ ہے: وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْبُ هُمْ يَنتَصِرُونَ وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (الشورى: ۴۰، ۴۱) اور جب اُن پر ظلم ہوتا ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں اور بدی کا بدلہ اتنا ہی ہے اور جو معاف کرے اور اصلاح کرے تو اس کا بدلہ اللہ کے ذمے ہے۔ وہ یقیناً ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ پہلی آیت میں ظلم کے خلاف اظہار اور احتجاج کے ار اور احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور دوسری آیت میں مومنوں کا وصف بیان ہوا ہے کہ جب ان پر ظلم