صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 455 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 455

صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۵۵ ٤٦- كتاب المظالم وَنَصْرَ الْمَظْلُومِ وَإِجَابَةَ الدَّاعِي عیادت اور جنازوں کے ساتھ جانا اور چھینک مار نے والے کا جواب دینا اور سلام کا جواب دینا اور مظلوم کی ☆ وَإِبْرَارَ الْقَسَمِ مدد کرنا اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنا اور قسم دینے والے کی قسم پورا کرنا۔ اطرافه: ۱۲۳۹، 5175، 5635، ٥٦٥٠، ٥٨٣٨، ٥٨٤٩ ، ٥٨٦٣ ٦٢٢٢، ٦٢٣٥، ٦٦٥٤۔ ٢٤٤٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۲۴۴۶ : محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید برید سے، برید نے ابو بردہ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى ا ان سے ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ ایک مومن دوسرے مومن کے لئے ایسی عمارت عمارت کی طرح بَعْضًا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ۔ اطرافه: ٤٨١، ٦٠٢٦ ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے اور یہ کہہ کر وضاحت کے لئے ) آپ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا ۔ تشریح : نَصْرُ الْمَظْلُوم : اما این جزاور علم میں کاخیال ہے کہ یہ اب اس غرض سے قائم کیا گیا ہے کہ مظلوم کی مدد واجب ہے اور اس وجوب کی کیا نوعیت ہے؟ فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟ ہر مسلمان کو یہ فرض -------- ادا کرنا چاہیے یا اگر بعض افراد مظلوم کی مدد کریں تو یہ کافی ہے اور باقیوں سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا ؟ ابن سراقہ کے نزدیک جو شافعی المذہب ہیں، یہ حکم ایسا ہی واجب ہے جیسا سلام کا جواب دینا ہر مسلمان پر واجب ہے یا جیسے دعوت طعام قبول کرنا ہر مسلمان کے لئے واجب ہے، یا جان یا جائز بات میں اگر قسم کا مطالبہ کیا جائے تو پورا کرنا واجب ہے۔ وجوب کی یہ صورت مندوب ہے۔ یعنی جب مظلوم کی مدد کے لئے بلایا جائے تو اس کا انکار کرنا گناہ اور قابل مؤاخذہ ہے اور اس پر لبیک کہنا ضروری ہے۔ ابن بطال کا بھی یہی خیال ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۰ صفحہ ۲۹۰) امام ابن حجر کا خیال ہے کہ یہ فرض کفایہ ہے۔ اگر چہ چہ سر سب مسلمان مخاطب ہیں ہیں لیکن ۔ اُس شخص پر جسے ازالہ ظلم کی ا قدرت حاصل ہو؟ اُس پر حکم کی تعمیل فرض ا واجب ہو جاتی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۲۳) جیسے حاکم وقت ہے جو ازالہ ظلم پر قدرت رکھتا ہے۔ اُس کا فرض ہے کہ وہ ازالہ ظلم کرے۔ اور یہی بات معقول مذہب ہے۔ عمدۃ القاری میں اس جگہ ”الْمُقْسِم کا لفظ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۲۹۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔