صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 454
صحيح البخاری جلدم ۴۵۴ ٤٦- كتاب المظالم ظالم کو ظلم سے روکنا در حقیقت ظالم ہی کی مدد ہے۔قرآن مجید میں لفظ عون عام مدد اور نُصْرَةٌ خاص مدد کے مفہوم میں وارد ہوا ہے۔جیسے فرمایا: تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔(المائده: ۳) نیکی و تقوی میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔لفظ عون سے ہی ہماری روزمرہ کی دعا ایاک نَسْتَعِينُ ہے۔اسْتَعَان کے معنے مدد طلب کی اور نَستَعینُ کے معنے ہیں: ہم مدد طلب کرتے ہیں۔نصرت کے لفظ کا استعمال جس آیت سے واضح ہوتا ہے؛ وہ یہ ہے۔فرماتا ہے: مَتَى نَصْرُ اللهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ) (البقره: ۲۱۵) مومن کہتے ہیں کہ اللہ کی نصرت کب آئے گی؟ سنو! اللہ کی نصرت یقیناً بہت نزدیک ہے۔اس سے قبل کی آیت یہ ہے: ام حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتى نَصْرُ اللهِ (البقره: ۲۱۵) کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں کی کی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔انہیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور ان پر زلزلہ برپا کیا گیا حتی کہ رسول اور اس کے ساتھی مومن بھی پکار اٹھے اللہ کی نصرت کب آئے گی؟ اس آیت سے نصرت کا مفہوم واضح ہوتا ہے کہ وہ ایسی الہی مدد ہے جو تلخیوں کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔چنانچہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (الحج:۴۰) وہ لوگ جن سے بلا وجہ جنگ کی جارہی ہے ان کو بھی جنگ کی اجازت دی گئی ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ یقیناً اُن کی مدد پر قادر ہے۔ان حوالوں سے عون اور نُصْرَةٌ کے معانی کا فرق معلوم ہو جاتا ہے۔حدیث انصر اخاک میں دونوں قسم کی مدد مراد ہے۔بَابِهِ : نَصْرُ الْمَظْلُوْمِ مظلوم کی مدد کرنا ٢٤٤٥: حَدَّثَنَا سَعِيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ :۲۴۴۵ سعید بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اشعث بن سلیم سے قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے معاویہ بن سوید الله سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ سے سنا۔(وہ کہتے تھے : ) میں نے حضرت براء بن عَنْهُمَا قَالَ : أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عازب رضی اللہ عنہما سے سنا۔انہوں نے کہا: نبی وَسَلَّمَ بِسَبْعِ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعِ فَذَكَرَ ﷺ نے سات باتیں کرنے کا حکم دیا اور سات عِيَادَةَ الْمَرِيضِ وَاتَّبَاعَ الْجَنَائِزِ باتوں سے منع فرمایا۔پھر انہوں نے (اُن باتوں کا) وَتَشْمِيْتَ الْعَاطِسِ وَرَدَّ السَّلَامِ ذکر کیا ( جن کے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔یعنی ) بیمار کی