صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 449
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۴۹ ٤٦- كتاب المظالم بَاب ۲ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّلِمِينَ (هود: ۱۹) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ہوشیار رہو، ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوا کرتی ہے ٢٤٤١ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۲۴۴۱: موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ : حَدَّثَنِي فَتَادَةُ عَنْ ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: قتادہ نے صفوان صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزِ الْمَازِنِي قَالَ : بن محرز مازنی سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: ایک بار میں حضرت (عبداللہ ) بن عمر بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ رضی اللہ عنہما کے ساتھ چلا جا رہا تھا اور ان کا ہاتھ عَنْهُمَا آخِذْ بِيَدِهِ إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ فَقَالَ : پڑے ہوئے تھا کہ ایک شخص سامنے سے آیا اور اس كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وَسَلَّمَ فِي النَّجْوَى؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ نَجْوَى (سرگوشی) کی نسبت کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : فرماتے سنا: اللہ مومن کو اتنا قریب کرلے گا کہ اس پر إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وہ اپنا سایہ رحمت ڈالے گا اور اس کی پردہ پوشی کرے وَيَسْتُرُهُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا گا اور پوچھے گا : کیا تجھے فلاں گناہ معلوم ہے؟ کیا تجھے أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُوْلُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ فلاں گناہ معلوم ہے؟ وہ کہے گا اے میرے رب ! ہاں۔ حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ وَرَأَى فِي نَفْسِهِ یہاں تک کہ جب وہ اس کے سارے گناہوں کا اقرار کرالے گا اور وہ مومن اپنے دل میں سمجھے گا کہ وہ ہلاک أَنَّهُ هَلَكَ قَالَ : سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ فَيُعْطَى كِتَابَ ان گناہوں کی پردہ پوشی کی تھی اور میں آج بھی تیری حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْكَافِرُ * وَالْمُنَافِقُونَ پرده پوشی کرتا ہوں ۔ پھر اس کی نیکیوں کی کتاب اس فَيَقُوْلُ الْأَشْهَادُ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ کو دی جائے گی اور جو کافر و منافق ہوں گے تو سب فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں ”الْكَافِرُ" کی جگہ الْكَافِرُون “ کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۱۲۰)