صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 450 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 450

صحيح البخاری جلدم ۴۵۰ ۴۶ - كتاب المظالم كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللهِ گواہ کہیں گے: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر عَلَى الظَّلِمِينَ ) (هود: ۱۹) چھوٹے باندھا۔ہوشیار رہو، ظالموں پر اللہ کی لعنت ہوگی۔اطرافه ٠٧٥١٤،٦٠٧٠٤٦٨٥ تشریح: اَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ: لَعْنَةٌ کے معنے رحمت سے دوری کے ہیں۔قرآن مجید میں صراحت سے آیا ہے کہ خالق نے انسان کو اپنی رحمت کے لئے پیدا کیا ہے۔فرماتا ہے: وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَّلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَامُلَعَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (هود: ۱۲۰،۱۱۹) اور اگر تیرا رب اپنی ہی مشیت نافذ کرتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت بنادیتا۔چونکہ اس نے ایسا نہیں کیا ( اور انہیں ان کی عقل اور اختیار پر چھوڑ دیا ہے ) وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے ، سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا ہے اور اسی رحم کا مورد بنانے کے لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور تیرے رب کا یہ فرمودہ ضرور پورا ہوگا کہ میں جہنم کو یقیناً ان سب جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا جو اختلاف کا موجب بنتے ہیں۔آیت زیر عنوان میں اسی رحمت سے دُوری کا ذکر ہے اور یہ بعد عربی زبان میں لعنت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کا سبب ظلم ہے۔تا وقتیکہ ظلم کا علاج نہ ہو، رحمت الہی کا کامل ظہور نہیں ہوسکتا۔یہ آیت جس کا حوالہ دوسرے باب کے عنوان میں دیا گیا ہے اس میں اسی تحقیہ اور تزکیہ کی صورت بیان کی گئی ہے، جس کا ذکر سابقہ باب میں گزر چکا ہے۔یہ تنقیہ بذریعہ قصاص کچھ تو اس دنیا میں ہوگا اور باقی آخرت میں۔جب تک یہ نہ ہو گا جنت کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔اللہ تعالی فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِابْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِى سَمِّ الْخِيَاطِ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ O لَهُم مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ (الاعراف: ۴۱ ۴۲ ) وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور تکبر کر کے ان سے اعراض کیا ہے ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو۔اور ہم ان لوگوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں جو ہم سے تعلق قطع کرتے ہیں۔ان کے لئے بچھونا بھی جہنم ہوگا اور اوڑ ھنے بھی جہنم ہی کے ہوں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان آیات کا حوالہ دے کر سابقہ مضمون سے ربط پیدا کر دیا ہے کہ قصاص مظالم کی غرض و غایت در اصل تنقیہ اور تزکیہ ہے جو جنت میں داخل ہونے کی پہلی اور آخری شرط ہے اور یہ غرض و غایت قصاص اور مختلف قسم کے ابتلاؤں کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔فرماتا ہے: وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللهُ الَّذِينَ امَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ وَاللهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ) وَلِيُمَحِّصَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمُ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ (آل عمران : ۱۴۱ تا ۱۴۳) اور یہ ( فتح اور شکست کے دن ایسے ہیں کہ ہم انہیں لوگوں کے درمیان