صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 448 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 448

صحيح البخاری جلدم ۴۴۸ ٤٦- كتاب المظالم تشریح: ط قِصَاصُ الْمَظَالِم : قصاص کے معنے ہیں: انتقام لینا اور یہ شرعی احکام میں سے ایک اہم حکم ہے۔یہ تین قسم کا ہے ایک قسم کا انتقام تو اسی دنیا میں ضروری ہے۔جیسا کہ فرمایا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحَرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأنْثَى بِالأنْثَىٰ ۖ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَادَاء إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ طَ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ O وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَوةٌ يَأولى الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: ۱۸۰،۱۷۹) اے وہ جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں کے بارے میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے۔اگر قاتل آزاد مرد ہو تو وہی آزاد قاتل بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔اگر غلام قاتل ہو تو وہی غلام قاتل بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔اگر عورت قاتل ہو تو وہی قاتل عورت بدلہ میں قتل کی جائے گی۔جس ( قاتل ) کو اُس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو مقتول کے وارث کو بقیہ تاوان مناسب طور پر وصول کرنا چاہیے اور قاتل کو عمدگی سے تاوان اُس کو ادا کرنا چاہیے۔یہ تمہارے رب کی طرف سے رعایت اور رحمت ہے۔اس کے بعد جو شخص زیادتی کرے گا اُس کے لئے دردناک سزا مقدر ہے۔اور اے عقل مندو! تمہارے لئے اس بدلہ لینے میں زندگی کی حفاظت ہے اور یہ حکم اس لئے ہے تا تم بچے رہو۔ان آیات میں اس قصاص کا ذکر ہے جس کا نفاذ شرعی طور پر حکومت کے ذریعے سے ہوتا ہے۔دوسری قسم کا وہ الہی انتقام ہے جس کا ظہور اسی دنیا میں ہوتا ہے۔تیسری قسم کا انتقام وہ ہے جس کا ظہور حیات آخرت میں ہوگا۔قرآن مجید میں تینوں قسم کے قصاص کا ذکر ہے۔باب اڈل کے تحت جو روایت درج کی گئی ہے، اس سے پایا جاتا ہے کہ جنت میں اس وقت تک انسان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا کامل تزکیہ نہ ہو جائے۔وہ حقوق جن کے بارے میں اس نے دنیا میں ظلم سے کام لیا۔اگر دنیا میں ان کا بدلہ نہ لیا گیا تو حیات آخرت میں لیا جائے گا۔مندرجہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نفس بشری کا تنقیہ اور تزکیہ آگ کے ذریعہ سے ہوگا اور ہر نفس کامل تنقیہ کے بعد ہی اپنے جنتی مقام میں داخل ہو سکے گا۔اس تعلق میں تشریح کتاب الایمان باب ۱۴۱ د یکھئے۔اور کتاب الزکوۃ تشریح باب ۳ بھی دیکھئے۔دنیا میں جو قصاص انسانوں کے ذریعہ سے جاری ہے وہ کیا بلحاظ تحقیق و تنقید اور کیا بلحاظ اثر و نتیجہ بہت ہی محدود اور ناقص صورت رکھتا ہے۔اس لئے یہ خیال کرنا کہ وہ ظلم جو بلا قصاص ہیں یا جن کا بدلہ پورے طور پر نہیں لیا گیا اُن کا آئندہ کوئی محاسبہ نہیں ہوگا ؛ اس تقدیر الہی کے خلاف ہے جو دنیا میں مشہور ہے اور اس منشاء الہی کے بھی خلاف ہے جس کا اظہار انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ سے ہوتا رہا ہے۔اس لئے یہ خیال خالق کون و مکان کی اس صفت سبوحیت اور قدوسیت کے بھی مغایر ہے؛ عالم کا ذرہ ذرہ جس کی شہادت دے رہا ہے۔اس بارے میں مذاہب عالم کا جو عقیدہ ہے کہ محاسبہ اعمال کی میزان مابعد الموت بھی قائم ہوگی، وہ اس لئے بھی معقول ہے کہ جب تک عقیدہ عملی جامہ نہ پہنے، انسانی پیدائش کی علت غالی کمال پذیر نہیں ہوسکتی۔اس تعلق میں دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی۔دوسرے سوال کا جواب۔روحانی خزائن جلده اصفحہ ۳۹۶ تا ۴۱۴۔