صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 445
صحيح البخاری جلدم ۴۴۵ ٤٦- كتاب المظالم ما بعد کی اقوام عالم سے بھی ہے۔(لَا يَعْلَمُهُمُ إِلَّا الله ) جن کے نشان مٹ گئے اور سوائے اللہ کے انہیں کوئی نہیں جانتا۔ان میں سے ہر ظالم قوم کے بدانجام سے رسول کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا۔فَاوْحَى إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَتُهْلِكُنَّ الظَّالِمِينَ وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ اُن کے رب نے اُن رسولوں کو وحی کی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔(دیکھئے سورۃ ابراہیم : ۹ تا ۱۵) مشار الیہا اقوام کی تاریخ کم و بیش پانچ چھ ہزار سال کے زمانہ طویل پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں بار بار ظلم کا انجام ہلاکت و تباہی کی شکل میں ظاہر ہوا۔امام بخاری کا یہ انتخاب موضوع کتاب سے پوری مناسبت رکھتا ہے۔ان آیات کی مزید تشریح کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر جلد ۳ صفحہ ۴۴۸ تا ۳۵۵۔ذیل میں محولہ آیات کا مسلسل ترجمہ دیا جاتا ہے یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ یہ ظالم ( قریش مکہ ) کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل ہے۔وہ تو انہیں صرف اس دن تک ڈھیل دے رہا ہے جس دن شدت خوف و حیرت کے مارے اُن کی ٹکٹکی بندھ جائے گی۔خوفزدہ ہو کر سر اٹھائے بے تحاشا ادھر اُدھر بھاگیں گے۔آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور دل انتہائی مایوسی میں بیٹھے جارہے ہوں گے۔اور تو لوگوں کو اس حادثہ سے آگاہ کر دے کہ جب یہ سزا آئے گی تو ظالم اُس وقت کہیں گے: اے ہمارے اللہ ! اس سزا میں ہمیں کچھ مہلت دے کہ ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور رسول کی پیروی کریں گے۔(اب مہلت کا وقت کیسا) کیا تم نے ایسی قسمیں پہلے نہیں کھائی تھیں کہ تمہیں کسی قسم کا زوال نہیں آئے گا، بحالیکہ ظالموں کے مکانوں میں تم رہے، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تم پر روشن ہو گیا کہ ہم نے ان کے مکینوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور تمہارے لئے عبرتناک نمونے قائم کئے۔یقینا وہ اپنی ساری تدبیریں کر چکے ہیں اور ان کی ہر تد بیر اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں ( مگر وہ سب اکارت گئیں۔) سو تم مت سمجھو کہ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرنے والا ہے۔یقینا وہ غالب اور سزا دینے والا ہے۔(ابراہیم ۴۳ تا ۴۸) اقنع کے معنے ہیں: سراٹھایا اور سر جھکایا۔یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔اقمحَ بھی اسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔اور مطع کے معنے خوف کے مارے بھا گا آیا ٹکٹکی لگا کر دیکھنے لگا۔اسی طرح اس کے معنے ہیں : ذلت وندامت میں آنکھیں نیچی کر لیں۔هَوَاء کے معنی جوگا ہیں جو اجوف کی جمع ہے یعنی خالی کھوکھلا۔وَافْئِدَتُهُمُ هَوَاء: دل امید سے خالی ہوں گے۔اُن پر مایوسی اور اداسی چھا جائے گی ، ہوائیاں اڑیں گی ، جو اس باختگی طاری ہوگی۔(عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۲۸۴) نَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ کی کیفیت مذکورہ بالا الفاظ سے بیان کی گئی ہے۔قریش کے لئے فتح مکہ کی گھڑی سخت مصیبت خیز گھڑی تھی۔ابوسفیان جو اسلام لانے سے قبل ان کے سرغنہ تھے۔ان کا حال حضرت حسان بن ثابت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: وَلَا أَبْلِغْ أَبَا سُفْيَانَ عَنِى فَأَنْتَ مُجَوَّفٌ نَخَبٌ هَوَاء ابوسفیان کو میری طرف سے پیغام پہنچا دو کہ تیری یہ حالت ہے کہ دل مارے خوف کے باہر ہے اور سینہ کھوکھلا ہے۔جیسے شکرا اپنے شکار کا دل باہر نکال لیتا ہے۔پریشانی اور گھبراہٹ کی وجہ سے تم حواس باختہ سراسیمہ حال ہو۔تمہاری عقل ٹھکانے نہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۱۹)