صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 445 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 445

صحيح البخاری جلد ۴ الدلد ٤٦- كتاب المظالم ما بعد کی اقوام عالم سے بھی ہے۔ (لَا يَعْلَمُهُمُ إِلَّا اللهُ ) جن کے نشان مٹ گئے اور سوائے اللہ کے انہیں کوئی نہیں جانتا۔ ان میں سے ہر ظالم قوم کے بد انجام سے رسول کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا ۔ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ ) وَلَتُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ۔ اُن کے رب نے ان رسولوں کو وحی کی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ (دیکھئے سورۃ ابراہیم : ۹ تا ۱۵) مشار الیہا اقوام کی تاریخ کم و بیش پانچ چھ ہزار سال کے زمانہ طویل پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں بار بار ظلم کا انجام ہلاکت و تباہی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ امام بخاری کا یہ انتخاب موضوع کتاب سے پوری مناسبت رکھتا ہے۔ ان آیات کی مزید تشریح کے لئے دیکھئے : تفسیر کبیر جلد ۳ صفحہ ۴۴۸ تا ۴۵۵۔ ذیل میں محولہ آیات کا مسلسل ترجمہ دیا جاتا ہے: یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ یہ ظالم ( قریش مکہ ) کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل ہے۔ وہ تو انہیں صرف اس دن تک ڈھیل دے رہا ہے جس دن شدت خوف و حیرت کے مارے ان کی ٹکٹکی بندھ جائے گی۔ خوفزدہ ہو کر سر اٹھائے بے تحاشا اِدھر اُدھر بھاگیں گے ۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور دل انتہائی مایوسی میں بیٹھے جا رہے ہوں گے۔ اور تو لوگوں کو اس حادثہ سے آگاہ کر دے کہ جب یہ سزا آئے گی تو ظالم اُس وقت کہیں گے: اے ہمارے اللہ ! اس سزا میں ہمیں کچھ مہلت دے کہ ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور رسول کی پیروی کریں گے۔ (اب مہلت کا وقت کیسا) کیا تم نے ایسی قسمیں پہلے نہیں کھائی تھیں کہ تمہیں کسی قسم کا زوال نہیں آئے گا، بحالیکہ ظالموں کے مکانوں میں تم رہے، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تم پر روشن ہو گیا کہ ہم نے ان کے مکینوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور تمہارے لئے عبرتناک نمونے قائم کئے ۔ یقینا وہ اپنی ساری تدبیریں کر چکے ہیں اور ان کی ہر تدبیر اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں ( مگر وہ سب اکارت گئیں ۔ ) سو تم مت سمجھو کہ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرنے والا ہے۔ یقینا وہ غالب اور سزا دینے والا ہے۔ (ابراہیم : ۴۳ تا ۴۸) اقنع کے معنے ہیں: سر اٹھایا اور سر جھکایا۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ اَقْمَحَ بھی اسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اور قطع کے معنے خوف کے مارے بھاگا آیا ہے آیا مٹکی لگا کر دیکھنے لگا۔ اسی طرح اس کے معنے ہیں: ذلت و ندامت میں آنکھیں نیچی کر لیں۔ هَوَاء کے معنی جوفًا ہیں جو اجوف کی جمع ہے یعنی خالی ، کھوکھلا ۔ وَافْئِدَتُهُمُ هَوَاء: دل اُمید سے خالی ہوں گے۔ اُن پر مایوسی اور اداسی چھا جائے گی ، ہوائیاں اڑیں گی ، حواس باختگی طاری ہو گی۔ (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۲۸۴) تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ کی کیفیت مذکورہ بالا الفاظ سے بیان کی گئی ہے۔ قریش کے لئے فتح مکہ کی گھڑی سخت مصیبت خیز گھڑی تھی۔ ابوسفیان جو اسلام لائے۔ لانے سے قبل ان کے سرغنہ تھے۔ ان کا حال حضرت رغنہ تھے۔ ان کا حال حضرت حسان بن ثابت بیان کرتے ہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہوئے۔ أَلَا أَبْلِغْ أَبَا سُفْيَانَ عَنِّي فَأَنْتَ مُجَوَّفٌ نَخَبٌ هَوَاء ابوسفیان کو میری طرف سے پیغام پہنچا دو کہ تیری یہ حالت ہے کہ دل مارے خوف کے باہر ہے اور سینہ کھو کھلا ہے۔ جیسے شکرا اپنے شکار کا دل باہر نکال لیتا ہے۔ پریشانی اور گھبراہٹ کی وجہ سے تم حواس باختہ سراسیمہ حال ہو۔ تمہاری عقل ٹھکانے نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۱۹)