صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 444 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 444

صحيح البخاری جلدم هم بوم بوم ۴۶ - كتاب المظالم بالله الحالي ٤٦- كِتَابُ الْمَظَالِم فِي الْمَظَالِمِ وَالْعَصْبِ ظلم و غصب ( کی شکایات) سے متعلق (احکام) وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: وَلَا تَحْسَبَنَّ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر : یہ نہ سمجھو کہ الله غَافِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّلِمُونَ اللہ ان کاموں سے غافل ہے جو یہ ظالم کر رہے ہیں۔اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ انہیں تو وہ اس مصیبت کے دن تک ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں دہشت سے پتھرا جائیں گی۔ٹیکنکی باندھے سر اُوپر اُٹھائے ہوئے گردنیں تانے ہوئے ہراساں افراتفری میں بھاگے چلے آئیں گے۔مُقْنِع اور مُقمِع کے الفاظ معنا ایک ہی ہیں۔الْاَبْصَارُ : مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ (ابراهيم: ٤٣ - ٤٤) رَافِعِي رُءُوسِهِمْ الْمُقْنِعُ وَالْمُقْمِحُ وَاحِدٌ۔تشریح : فِي الْمَظَالِمِ وَالْعَصْبِ : مَظَالِم، مَظْلِمَہ کی مع ہے جو صدر یہی ہے کہتے ہیں: ظَلَمَ يَظْلِمُ ي ظُلْمًا وَ مَظْلِمَةً - یعنی اُس نے غیر کے مال میں ناجائز تصرف اور حق تلفی کی۔اسی طرح کہتے ہیں: عِندَ فُلَانٍ مَظْلِمَتِی وَ ظَلَامَتِی اُس کے پاس میرا حق ہے۔ظلم کے معنے ہیں: وَضعُ الشَّيْ ءٍ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ جَہاں کسی شئے کی جگہ ہو، وہاں نہ رکھی جائے بلکہ کسی اور جگہ رکھی جائے۔یہی مفہوم ناجائز تصرف اور حق تلفی میں پایا جاتا ہے۔غصب کے معنی ہیں: زبردستی چھینا یا قبضہ کرنا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۳ ۲۸۴۲۸) ابواب متعلقہ اصل موضوع شروع کرنے سے قبل سورۃ ابراہیم کی آخری آیات میں سے ایک ایسی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں ظالم کا تین دفعہ ذکر وارد ہوا ہے اور اس سے الہی انتقام میں تاخیر والتواء کے بعد عبرتناک مؤاخذہ کرنے اور سزا دینے کے بارے میں سنت الہیہ بیان کی گئی ہے۔اس آیت میں قریش مکہ کے جور و جفا کے بد انجام کی پیشگوئی ہے جس میں ظالموں کی سراسیمگی اور پریشان حالی کی تصویر لفظوں سے کھینچی گئی ہے : مُهْطِعِي، مُقْنِعِی اور هَوَاء۔امام بخاری نے آیت معہ تشریح الفاظ کا حوالہ دے کر ظلم کے انجام اور وبال کی طرف توجہ دلائی ہے جو رہتی دنیا تک ایک ابدی شہادت ہے کہ ظلم کبھی فروغ نہیں پاتا اور اس کا بدانجام نہایت ہی بھیانک منظر دیکھا تا ہے۔محولہ بالا آیت ایسے سیاق میں وارد ہوئی ہے جس کا تعلق صرف وادی مکہ کے واقعات ہی سے نہیں بلکہ قوم فرعون اور اس سے قبل کی اقوام عاد خمود اور