صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 446
صحيح البخاری جلد ۴ امام ٤٦- كتاب المظالم بالکل یہی حال ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں کا تھا۔ ظالموں کا انجام بیان کرنے میں مذکورہ بالا آیات جامع ہیں اور ان میں آٹھ باتیں بیان : بیان ہوئی ہیں۔ آئندہ ابواب میں ظلم اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کے بارے میں اُ انہی امور کا ذکر ہوگا۔ بَاب ۱ : قِصَاصُ الْمَظَالِمِ ظلموں کا بدلہ قَالَ مُجَاهِدٌ: مُهْطِعِينَ (ابراهیم : ٤٤) اور مجاہد نے کہا: مُهْطِعِینَ کے معنے ہیں بکٹکی باندھے مُدِيمِي النَّظَرِ وَقَالَ غَيْرُهُ : بغیر پلک جھپکائے دیکھنے والے اور مجاہد کے علاوہ کسی نے یہ بھی کہا ہے: (اسے بھی مقطع کہتے ہیں جو خوف مُسْرِعِيْنَ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ کی وجہ سے ) جلدی جلدی چلنے والا ہو۔ (اللہ تعالیٰ وَأَفْدَتُهُمْ هَوَاء (ابراهيم: ٤٤) اس کے بعد فرماتا ہے: ) اُن کی نگاہیں اپنی طرف يَعْنِي جُوْفًا لَا عُقُولَ لَهُمْ ۔ نہیں لوٹ سکیں گی اور حواس باختہ ہوں گے۔ وَانْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ أَفْئِدَتُهُمْ هَوَاء کے لفظی معنے ہیں: ان کے دل الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا لا خالی ہوں گے یعنی عقل و ہوش ٹھکانے نہ ہوں گے۔ اور فرماتا ہے :) اور لوگوں کو اُس دن سے آگاہ کر دو رَبَّنَا أَخْرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ تُجِبْ جس دن ان پر موعود عذاب آئے گا تو وہ لوگ جنہوں دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ نے ظلم کیا ہوگا ، پکاریں گے: اے ہمارے رب ! ہمیں : تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ تھوڑی سی مہلت دے کہ ہم تیری دعوت قبول مِنْ زَوَالِ کریں اور رسولوں کی پیروی کریں۔ انہیں جواب وَسَكَنْتُمْ فِي مَسْكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا لے گا: کیا تم ہی وہ نہ تھے جنہوں نے پہلے بھی قسمیں اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا ہم کھا کر کہا تھا کہ تمہیں بھی زوال نہیں ہوگا اور تم ان وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ لوگوں کے مکانوں میں بسے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تمہیں اچھی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ ہم وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللهِ ۖ نے ان سے کیا کچھ کیا اور ہم نے عبرتناک نمو نے بھی مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ قائم کر دئے تھے اور اب یہ لوگ بھی اپنے سارے حیلے