صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 443 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 443

صحيح البخاري - جلدم ۴۴۳ ۴۵ - كتاب اللقطة فَأَمَرْتُهُ فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ ثُمَّ أَمَرْتُهُ پوچھا: کیا تمہاری بکریوں کا کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا: أَنْ يَنْقُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ ثُمَّ أَمَرْتُهُ ہاں۔میں نے کہا: کیا تو میرے لئے دودھ دو ہے گا؟ أَنْ يَّنْفُضَ كَفَّيْهِ فَقَالَ: هَكَذَا ضَرَبَ اُس نے کہا: ہاں۔چنانچہ میں نے اس سے فرمائش کی۔إِحْدَى كَفَّيْهِ بِالْأُخْرَى فَحَلَبَ كُثْبَةٌ اس پر اس نے اپنے ریوڑ سے ایک بکری پکڑی۔میں نے کہا: اس کے تھن کو غبار سے جھاڑ کر صاف کرلے۔مِنْ لَّبَنِ وَقَدْ جَعَلْتُ لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى پھر میں نے کہا: اپنے دونوں ہاتھوں کو بھی جھاڑ لے۔اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِدَاوَةً عَلَى فِيْهَا خِرْقَةٌ اس نے ایسا ہی کیا۔اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ مارا۔پھر ایک پیالہ بھر دودھ دوہا۔میں نے رسول اللہ فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم کے لئے پانی کی ایک چھا گل رکھ لی وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تھی۔اس کے منہ پر کپڑا تھا۔میں نے دودھ پر پانی فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيْتُ۔ڈالا۔یہاں تک کہ اس کے نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ ! پیجئے۔آپ نے پیا اور میں خوش ہو گیا۔اطرافه ٣٦١٥ ٣٦٥٢، ۳٩٠٨، ۳۹۱۷، ٥٦۰۷ تشریح یہ باب بلا عنوان ہے اور شارمین کواس کی توجیہ اور سابقہ ابواب کے مضمون سے اس کا تعلق بیان کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ابن منیر وغیرہ نے یہ تاویل کی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جنگل میں دودھ حاصل کرنا بھی لقطہ ہی کی ایک قسم تھی۔امام ابن حجر نے اس تاویل کو تکلف پر محمول کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۱۷) ایسے اشکال کی مثالیں پہلے بھی گزر چکی ہیں۔(دیکھئے کتاب الحج باب ۱۴: الصَّلَاةُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ جو بخاری کے اکثر نسخوں میں متروک ہے۔اگر یہ باب؛ باب ۸ کے بعد ہوتا تو اس کا تعلق اس لحاظ سے قابل فہم تھا کہ بکریوں کے چرواہے سے دودھ حاصل کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھا جاتا تھا اور نہ مالک کی اجازت کی ضرورت تھی کہ عام رواج اسی طرح تھا۔مگر یہ باب اس سے الگ اور خاتمہ پر قائم کیا گیا ہے۔مذکورہ بالا واقعہ سے ظاہر ہے کہ ریوڑ کے مالک کو اپنے چرواہے پر اور چرواہے کو اپنے مالک پر پورا اعتماد تھا اور یہی اعتماد رائی اور رعایا کے درمیان ہونا چاہیے۔حضرت ابو بکر کو بھی چہر وا ہے اور مالک دونوں پر اعتماد تھا۔اس جہت سے باب کا تعلق سابقہ ابواب سے خود بخود واضح ہو جاتا ہے۔