صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 442
صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۴۴ ۴۵ - كتاب اللقطة اس کا جواب اس باب میں یہ دیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہی فیصلہ فرمایا ہے کہ جس شخص کو کوئی شئے ملی ہو، وہی اسے محفوظ رکھنے اور شناخت کروانے کا ذمہ دار ہے۔ افراد قوم کے نفوس میں دیانت وامانت کا خلق پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان پر اعتماد کیا جائے اور اُن سے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ دیانت دار ہیں۔ حسن ظن اور اعتماد ذمہ داری کا احساس اور دیانت وامانت کی صفت پیدا کرنے میں بڑی قیمتی محرک ہیں اور اگر کسی قوم میں دیانت وامانت کی صفت پیدا ہو جائے تو یہ ایک نعمت عظمیٰ ہوگی اور اس سے نہ صرف دیانت و امانت ہی کا خلق اس میں پیدا ہو گا بلکہ کئی اخلاقی جو ہر چمکیں گے اور اس کے برعکس بدظنی اور بے اعتمادی تو ایک اچھے بھلے شخص کو بھی چور بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لاوارث اشیاء کا ذمہ دار افراد کو گردانا ہے اور حکومت کو ان کا محافظ اور ذمہ وار نہیں بنایا اور نہ اس کے ذریعے سے ایسی چیزوں کی حفاظت آسان ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کے مالکوں کو آسانی سے پہنچائی جاسکیں اور اسی حکمت کے پیش نظر عنوان باب میں نفی کا پہلو نمایاں کیا گیا ہے۔ باب ۱۲ ٢٤٣٩: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ ۲۴۳۹: اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا نظر نے ہمیں خبر دی۔ اسرائیل نے ابواسحاق سے إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: أَخْبَرَنِي الْبَرَاءُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ حضرت براء بن عازب) نے مجھے بتایا کہ حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ ابوبکر حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا عبد اللہ بن رجاء نے بھی ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : نے حضرت براء سے ، حضرت براہ نے حضرت ابو انْطَلَقْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: میں چل غَنَمَهُ فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: لِرَجُلٍ پڑا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ بکریوں کا ایک چرواہا ہے جو اپنی مِنْ قُرَيْشٍ - فَسَمَّاهُ فَعَرَفْتُهُ فَقُلْتُ: بکریوں کو ہانک رہا ہے۔ میں نے کہا: تم کس کے هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَّبَنِ؟ فَقَالَ : نَعَمْ چرواہے ہو؟ اس نے کہا: قریش کے ایک شخص کا۔ اس فَقُلْتُ : هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي ؟ قَالَ : نَعَمْ نے اس کا نام لیا۔ میں نے اس کو پہچان لیا۔ میں نے