صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 18
صحيح البخاری جلد ۴ IɅ ۳۴- كتاب البيوع تشریح۔وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهُوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا : باب کے عنوان میں مشار الیہ آیت کا حوالہ بطور تمہید باب نمبرا میں گذر چکا ہے۔اب اسے الگ عنوان میں دوبارہ لاکر روایت نمبر ۲۰۵۸ کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے کہ تجارتی کاروبار میں اگر دین کو مقدم کیا جائے تو وہ کاروبار مبارک اور وسیلہ معاش پسندیدہ ہے۔قابل مذمت وہ امر ہے جس میں سوء تصرف ہو۔اس لئے بعض فقہاء نے جو تجارت کے بارے میں اباحت علی الاطلاق کا فتویٰ دیا ہے، وہ درست نہیں۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۳۶۶- شرح بابا) جس واقعہ کا ذکر روایت زیر باب میں ہے اس کی وضاحت کے لیے کتاب الجمعة باب ۳۸ روایت نمبر ۹۳۶، کتاب البیوع باب ۷ و ۸ مع تشریح دیکھئے۔بَاب : مَنْ لَّمْ يُبَالِ مِنْ حَيْثُ كَسَبَ الْمَالَ ایسے شخص کے بیان میں جو روپیہ کمانے میں حلال حرام کی پرواہ نہیں کرتا ٢٠٥٩ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ۲۰۵۹ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ ذِنْبِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي ابن الى ذئب نے ہمیں بتایا کہ سعید مقبری نے ہم هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ کہ آپ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا۔آدمی اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اُس کی کمائی حلال الْحَلَالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ۔طرفه: ۲۰۸۳ سے ہے یا حرام ہے۔تشريح : مَنْ لَّمْ يُبَالِ مِنْ حَيْثُ كَسَبَ الْمَالَ : اس شخص کی تجارت بابرکت نہیں ہوتی جو اپنے کاروبار میں حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس زمانہ میں مذکورہ بالا پیشگوئی فرمائی کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اس وقت حلال وحرام کی پرواہ نہ کی جائے گی، صحابہ کرام تجارتی کاروبار میں پوری دیانت وامانت سے کام لیتے تھے ، جو آپ کی تربیت کا نتیجہ تھا۔جمعہ کے دن اثنائے خطبہ میں غلے کا قافلہ دیکھنے کے لئے بعض لوگوں کا چلا جانا اس وقت سے تعلق رکھتا ہے کہ جب اُن کی تربیت ابتدائی حالت میں تھی۔چنانچہ مابعد کے باب میں اُن کی تربیت کے اعلی نمونہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ابتدائی تربیت اور مابعد کی تربیت میں نمایاں فرق ہے۔یہی فرق دکھانے کے لئے دو باب ( نمبر ۶ ۷ ) یکے بعد دیگرے قائم کئے گئے ہیں۔