صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 19
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۹ ۳۴- كتاب البيوع باب ۸ : التِّجَارَةُ فِي الْبَرِّ وَغَيْرِهِ خشکی وغیرہ میں تجارت کرنے کے بارے میں وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ اور اللہ عز وجل کا یہ ارشاد: وہ ایسے مرد ہیں نہ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ تجارت انہیں خدا کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ (النور: ٣٨) وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ الْقَوْمُ خرید و فروخت۔ اور قتادہ نے کہا: یہ وہ لوگ تھے جو يَتَبَايَعُوْنَ وَيَتَّجِرُوْنَ وَلَكِنَّهُمْ إِذَا نَابَهُمْ آپس میں خرید و فروخت اور تجارت کرتے تھے۔ مگر جب اللہ کے حقوق میں سے کوئی حق اُن کے سامنے حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ اللَّهِ لَمْ تُلْهِهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا آجاتا تو اللہ تعال کے ذکر سے تجارت اور خرید و فروخت بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ حَتَّى يُؤَدُّوهُ إِلَى اللَّهِ ۔ ان کو غافل نہ کرتی اور وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتے۔ ٢٠٦٠ - ٢٠٦١ : حَدَّثَنَا أَبُو ۲۰۱۰-۲۰۶۱: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا ۔ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابن جریج سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ عمرو عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ : بن دینار نے ابومنہال ( عبدالرحمن بن مطعم ) سے روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ فَسَأَلْتُ زَيْدَ میں صرافی کا کاروبار کیا کرتا تھا۔ میں نے حضرت زید ابْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: قَالَ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔ وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوْبَ حَدَّثَنَا اور فضل بن یعقوب نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ حجاج الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ بن محمد نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے کہا: عمرو بن دینار أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَعَامِرُ بْنُ اور عامر بن مصعب نے مجھے خبر دی کہ اُن دونوں نے مُصْعَبٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ابو منہال عبد الرحمن بن مطعم ) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: يَقُوْلُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبِ وَزَيْدَ میں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم عمدة القاری میں لفظ الْبَرِّ کی بجائے لفظ البر ہے۔ ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ التِّجَارَةُ فِي الْبَرِّ سے مراد کپڑے کا کاروبار کرنا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحہ ۱۷۴) ابن عساکر نے بھی البر کو صحیح قرار دیا ہے اور یہ اگلے باب التِّجَارَةُ فِي الْبَحْرِ “ کے زیادہ قریب ہے۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۳۷۶)