صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 17 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 17

صحيح البخاری جلدم ۱۷ ۳۴- كتاب البيوع دوسرے باب ( نمبر۴ ) میں آپ کے اپنے عمل درآمد کا حوالہ دیا گیا ہے۔آپ صدقہ کی کھجور میں تقسیم فرمایا کرتے تھے۔کبھی ایسا ہوتا کہ جب آپ گھر آتے تو اپنے بستر پر کھجور پاتے اور اس خیال سے وہ نہ کھاتے کہ مبادا صدقہ کی ہو۔پہلی روایت جو حضرت انسؓ سے مروی ہے، اس میں جگہ کا ذکر نہیں۔یہ نقص بحوالہ ہمام حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے دور کیا گیا ہے۔(حضرت ابو ہریرہ کی مکمل روایت کے لیے دیکھئے کتاب اللقطة، باب ۶ روایت نمبر ۲۴۳۲) اس میں جو مثال مذکور ہے، اُس کا تعلق وہم سے نہیں۔کیونکہ کھجور میں بالعموم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کے گھر میں بھیجی جاتی تھیں، جنہیں آپ مستحقین میں تقسیم فرماتے تھے۔اس لئے آپ نے غالب احتمال کی بناء پر احتیاط فرمائی۔لفظ مسُقُوطَةٌ بمعنے ساقطة مفعول کے وزن پر ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے: إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا۔(مریم:۶۲) یعنی اُس کا وعدہ آنے والا ہے۔لفظ مَاتِيًّا جو اسم مفعول ہے، اتیا کے معنوں میں ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ایک اور جگہ آتا ہے: حِجَابًا مَّسْتُورًا (بنی اسرائیل: ۴۶) ایسا حجاب ہے جس نے پر وہ ڈال رکھا ہے۔یہاں لفظ مستور بمعنے ساتھ ہے۔مَنْ لَّمْ يَرَ الْوَسَاوِسَ وَنَحْوَهَا مِنَ الشُّبُهَاتِ : امام بخاری نے تیسرے باب ( نمبر۵) میں وسوسہ کی مثالیں دے کر اسے شکوک و شبہات سے خارج قرار دیا ہے۔اگر وسوسہ کا ازالہ امر واقعہ یاکسی اور طریق سے ہو سکے تو ضرور کیا جائے محض خیال پر شبہات کرنا درست نہیں بلکہ مرض و ہم کو دعوت دینا ہے۔باب ٦ : قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذَا رَاَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهُوَا انْفَضُّوا إِلَيْهَا اللہ عزوجل کا فرمانا : جب وہ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں (الجمعۃ : ۱۲) ٢٠٥٨ حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ۲۰۵۸ : طلق بن غنام نے ہم سے بیان کیا کہ زائدہ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمٍ ( بن قدامہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حصین سے، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : حصین نے سالم (بن ابی جعد ) سے روایت کی۔انہوں بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے کہا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا، و توکی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتْ مِنَ الشَّامِ عِيْرٌ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک بار نماز پڑھ تَحْمِلُ طَعَامًا فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا رہے تھے کہ اس اثناء میں ایک قافلہ شام سے غلہ بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لادے ہوئے آیا تو لوگ اُسے دیکھنے کے لئے چل اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَنَزَلَتْ : وَإِذَا رَأَوْا پڑے۔یہاں تک کہ نبی ﷺ کے ساتھ بارہ مردوں تِجَارَةً أَوْلَهْوَا انْفَضُّوا إِلَيْهَا۔کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔تب یہ آیت نازل ہوئی: جب (الجمعة : ۱۲) وہ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔اطرافه ٩٣٦، ٢٠٦٤، ١٤٨٩٩