صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 406
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۰۶ ۴۳ - كتاب الاستقراض 70 اور بعض حنبلی بڑی عمر کے شخص پر اگر وہ ابلہ ہو، کسی قسم کی پابندی عائد کرنا جائز نہیں سمجھتے۔ امام زفر " ، امام مخفی اور امام محمد بن سیرین کی بھی یہی رائے ہے۔ اور اُن کا استدلال روایت نمبر ۲۴۰۷ سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سادہ لوح کے لئے بھی پابندی عائد کرنا ضروری سمجھتے تو آپ حضرت حسان بن منقد کو یہ من بن منقذ کو یہ مشورہ نہ دیتے کہ خریدتے وقت لا خِلَابَةَ روایت نمبر ۲۱۱۷) کہہ دیا کرو۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۸۶ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۲۴۶، ۲۴۷) لیکن اس سے اُن کا استدلال کمزور ہے کیونکہ اچھے بھلے سمجھدار تعلیم یافتہ لوگ بھی بیع و شراء میں دھوکا کھا سکتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا علاج بتا دیا ہے کہ کہہ دیا جائے اگر دھوکا ثابت ہوا تو خرید کردہ شے واپس ہوگی ۔ ایسی حالت میں حجر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ باقی صورتیں حجر کی حکومت وقت سے متعلق ہیں۔ روایت نمبر ۲۴۰۸ کتاب الادب باب ۶ روایت نمبر ۵۹۷۵ میں بھی منقول ہے۔ بَاب ۲۰ : الْعَبْدُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَلَا يَعْمَلُ إِلَّا بِإِذْنِهِ یہ باب اس بارے میں ہے کہ ) غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے اور وہ اُس کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہ کرے ٢٤٠٩ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۴۰۹: ابوالیمان (حکم بن نافع ) نے ہم سے بیان شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : أَخْبَرَنِي کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: كُلُّكُمْ ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ: فَالْإِمَامُ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے تم میں سے ہرا ہر ایک حکمران رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ہے اور اُس سے اپنی رعیت کے متعلق پرسش ہوگی ۔ بادشاہ تو حاکم ہے اس لئے اس سے اس کی رعیت کی وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُول نسبت پوچھا جائے گا اور ہر آدی اپنے گھر والوں کا عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا حاکم ہے۔ پس اس سے بھی اس کی رعیت (خاندان) رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا ، کی نسبت پوچھا جائے گا۔ اور عورت بھی اپنے خاوند وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ کے گھر میں حکمران ہے۔ پس اس سے بھی اس کی