صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 405 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 405

صحيح البخاری جلدم ۴۰۵ ۴۳- كتاب الاستقراض دن تک دشمنی اور بغض ڈال دیے ہیں۔جب بھی وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے۔اور وہ زمین میں فساد پھیلانے کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں۔اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔دوسری آیتوں میں شریعتِ الہیہ کی طرف سے عائد کردہ احکام کی پابندی کا ذکر ہے۔شریعت اسلامیہ کی بنیاد اسی نقطہ پر قائم ہے کہ انسان اخلاق الہیہ کو ط اپنائے ، جیسا کہ فرمایا: صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةً وَّ نَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ) (البقرة: ۱۳۹) که انسان اخلاق الہیہ سے رنگین ہو اور ہر حرکت جو اُس سے صادر ہو مشیت الہیہ کا انعکاس ہو کیونکہ صفات الہیہ کے رنگ سے زیادہ خوبصورت اور کونسا رنگ ہو سکتا ہے۔اس لئے امام بخاری نے مسئلہ حجر کے بارے میں پہلے مشیت الہی کی طرف توجہ دلائی ہے۔پھر احکام الہیہ کا ذکر کیا ہے۔ان آیات میں الہی سنت کا ذکر ہے جو اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ اُس کے بندے حدود سے نکلتے ہیں اور سنوارنے کی بجائے بگاڑتے ہیں۔دوسرے حوالے سے متعلقہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے ساحران مصر کا جادو توڑا گیا اور باطل کا ازالہ کیا گیا کیونکہ وہ عمل صالح نہ تھا۔تیسرے حوالے سے متعلق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ خلاف عقل بات کا ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ جن مالوں کے ہم مالک ہیں اور ہمیں حق تصرف کی پوری آزادی ہے؛ ان کی بابت ہم پر پابندیاں عائد کی جائیں۔حضرت شعیب کی قوم کا یہ آزادانہ نظریہ ملکیت قبول نہیں کیا گیا بلکہ ان سے مواخذہ ہوا۔چوتھی آیت کے حوالہ سے پابندی کے تعلق میں نص صریح پیش کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ نے کم عقلوں پر اس وقت تک پابندی قائم کر رکھی ہے جب تک کہ وہ اپنے رشد کو نہ پہنچیں یعنی نیک و بد کی تمیز نہ کرسکیں۔یہ آیت مسئلہ حجر میں نص صریح ہے۔جبکہ پہلے دو حوالوں سے متعلقہ آیات میں مشیت الہی اور سنت اللہ پیش کی گئی ہے۔عنوانِ باب میں علاوہ محولہ بالا آیات کے دوا در حوالے بھی ہیں۔ان میں سے پہلا وَ الْحَجُرُ فِی ذَلِكَ ہے۔اس فقرے کا عطف جملہ مَا يُنْهَى عَنْ اِضَاعَةِ الْمَالِ پر ہے۔یعنی مال ضائع کرنے کی جو ممانعت ہے اور اس کی وجہ سے جو پابندی عائد کی جائے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نجدہ نے دریافت کیا تھا کہ یتامی کے اموال پر پابندی کس عمر تک ہے؟ تو انہوں نے جواب میں نجدہ کو لکھا: تَسْأَلُنِي مَتَى يَنقَضِئُ يُتُمُ الْيَتِيمِ فَلَعَمُرِى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ ضَعِيْفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا فَإِذَا اَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحٍ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتُمُ۔(مسلم۔كتاب الجهاد والسير۔باب النساء الغازيات يرضخ لهن ولا يسهم) يعنى تم مجھے سے پوچھتے ہو کہ قیمی کی حرکب ختم ہوتی ہے۔ایک شخص لین دین میں کمزور ہوسکتا ہے بحالیکہ داڑھی نکل رہی ہو۔جب اُس کے نفس میں لوگوں کا شعور پیدا ہو جائے کہ وہ اپنی بھلائی برائی میں تمیز کر سکے تو اُس کی قیمی ختم ہو جائے گی۔یہ روایت گو موقوف ہے لیکن باب کی روایت نمبر ۲۴۰۷ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔دوسرے حوالے کے لئے دیکھئے کتاب البیوع باب ۴۸ روایت نمبر ۲۱۱۷ - ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۸۶) امام بخاری کو عنوان باب میں یہ تمام حوالے اس لئے دینے پڑے ہیں کہ جمہور کی رائے کے خلاف امام ابو حنیفہ