صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 407
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۰۷ ۴۳- كتاب الاستقراض مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔ قَالَ : فَسَمِعْتُ رعیت کی نسبت پوچھا جائے گا۔ اور نو کر بھی آقا کے هَؤُلَاءِ مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مال کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ پس اس سے بھی اس کی وَسَلَّمَ وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نسبت پوچھا جائے گا۔ (حضرت ابن عمرؓ نے) کہا: وَسَلَّمَ قَالَ : وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيْهِ رَاعٍ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کا وَهُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ ذکر سنا اور میں سمجھتا ہوں کہ نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔ کہ آدمی اپنے باپ کے مال میں بھی ذمہ وار ہے۔ اور اس سے بھی اس کے مال کی نسبت پوچھا جائے گا۔ اس لئے تم میں سے ہر ایک حکمران اور ذمہ وار ہے اور اس سے اپنی اپنی رعیت (زیر حفاظت چیزوں) کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ إطرافه: ٨٩٣ ٢٥٥٤ ، ٢٥٥٨، ٢٧٥١ ، ٥١٨٨، ٥٢٠٠، ٧١٣٨۔ تشريح : الْعَبُدُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَلَا يَعْمَلُ إِلَّا بِإِذْنِهِ : روایت نمبر ۲۴۰۹ میں جو ارشاد نبوی منقول ہے اُس کے ذریعہ سے نگرانی کی عام ذمہ داری ہر شخص پر عائد کی گئی ہے، جو اپنے دائرہ تصرف و عمل میں نگران ہے اور اپنے خالق کے سامنے جوابدہ۔ یہ اصولی جواب ہے مذکورہ بالا اختلاف کا کہ بڑا ہو یا چھوٹا اگر اس کی نسبت اندیشہ ہو کہ وہ اپنا مال ضائع کر دے گا تو اُس کی نگرانی اور روک تھام کا تعلق ان اشخاص سے ہے جن کے وہ ماتحت ہو۔ 0000000000