صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 404
صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۰۴ ۴۳- كتاب الاستقراض وارث اپنے حق سے محروم رہ جائے گا۔ ایسا شخص ایک تہائی کی وصیت تو شرعاً کر سکتا ہے۔ باقی ورثہ پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ بشرطیکہ اس پابندی سے حقوق کی حفاظت مد نظر ہو۔ مذکورہ بالا حالات کے پیش نظر شریعت اسلامیہ نے جائز قرار دیا ہے کہ مالی تصرف میں کسی مال پر پابندی عائد کر دی جائے کہ وہ نہ بیچا جائے اور ایسے ہی نہ ہبہ کیا جائے ۔ اس پابندی کو شریعت اسلامیہ میں حجر کہتے ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحه ۲۴۶) ( بداية المجتهد ، كتاب الحجر ، فى أصناف المحجورین، جزء ثانی، صفحه ۲۱۰ ۲۱۱) وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ۔ : عنوان باب میں چار آیتوں اور دو روایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو تشریح طلب ہیں۔ پہلی آیت یہ ہے: وَ إِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرُثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَه (البقرة : (۲۰۶) اور جب حاکم ہو جاتے ہیں تو اُن کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ فساد پیدا کریں اور کھیتی باڑی اور نسل کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا ۔ دوسری آیت یہ ہے: فَلَمَّا الْقَوْا قَالَ مُوسَى مَا جِئْتُمُ بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ ) (یونس : ۸۲) آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور جب ساحروں نے جو کچھ ڈالنا تھا، ڈال دیا تو موسیٰ نے کہا: جو کچھ تم لوگوں نے پیش کیا ہے، سرا سر فریب ہے۔ اللہ ضرور اسے بے اثر کر دے گا۔ کیونکہ اللہ مفسدوں کی کاروائیوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ تیسری آیت یہ ہے: قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلَاتُكَ تَاْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ابَاءُ نَا أَوْ أَنْ نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُه (هود: (۸۸) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت شعیب کے مخالفوں نے کہا: اے شعیب ! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ جس چیز کی ہمارے باپ دادے پرستش کرتے آئے ہیں، اُسے ہم چھوڑ دیں، یا اس بات کو ترک کر دیں کہ اپنے مالوں سے متعلق جو چاہیں کریں۔ (اگر ایسا ہے ) تو تو یقینا بڑا ہی عقل مند اور سمجھدار آدمی ہے۔ چوتھی آیت یہ ہے: وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ) ( النساء: ۶) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ نا سمجھوں کو اپنے مال جنہیں اللہ نے تمہارے لئے سہارا بنایا ہے، نہ دو اور ان میں سے انہیں کھلاؤ اور پہناؤ اور اچھی باتوں کی انہیں تلقین کرتے رہو۔ ان چاروں آیتوں کا تعلق حجر سے ہے۔ پہلے دو حوالوں میں مشیت الہی پیش کی گئی ہے کہ وہ فساد کو پسند نہیں کرتا اور مفسد کے عمل کو باطل کر دیتا ہے۔ چنانچہ یہود کے متعلق اپنی اس مشیت اور سنت کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے : وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَهُ مَبْسُوطَيْنِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُمْ مَّا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا * وَالْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَاهَا اللَّهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ) (المائدۃ: ۶۵) یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کہ وہ مومنوں کے لئے خرچ نہیں کرتا۔ انہی کے ہاتھ جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ بسبب تمرد و کفر راندہ رحمت الہی ہیں۔ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اور وہ جو تیری طرف تیرے رب کی طرف سے اُتارا گیا، ان میں سے بہتوں کو بغاوت اور انکار میں یقیناً بڑھا دے گا اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے