صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 403 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 403

صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۰۳ ۴۳ - كتاب الاستقراض رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: أَخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ في صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے کہا: میں فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ۔ فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهُ خرید و فروخت میں ٹھگا جاتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: جب تم خرید و فروخت کرو تو یہ کہا کرو: اس میں دھو کہ اطرافه ٢۱۱۷، ٢٤١٤، ٦٩٦٤۔ فریب نہیں ہوگا۔ چنانچہ وہ شخص ایسا ہی کہا کرتا تھا۔ ٢٤٠٨: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ حَدَّثَنَا ۲۴۰۸: عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے مجھ سے بیان کیا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے ، منصور وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنِ نے شعبی سے شعمی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کے الْمُغِيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى غلام وزاد سے، وزاد نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ روایت کی کہ انہوں نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا: ماؤں کی نافرمانی اور بیٹیوں کا زندہ گاڑنا اور خود تو نہ دینا عُقُوْقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنَعَ لیکن دوسروں سے مانگنا؛ ان سب باتوں کو اللہ تعالیٰ وَهَاتِ۔ وَكَرِهَ لَكُمْ قِيْلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ نے تم پر حرام کیا ہے۔ اسی طرح سے فضول باتیں السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ۔ کرنے اور بہت سوال کرنے اور مال برباد کرنے کو تمہارے لئے نا پسند کیا ہے۔ إطرافه: ٨٤٤ ١٤٧٧، ٥٩٧٥ ٦٣٣٠، ٦٤٧٣، ٦٦١٥، ٧٢٩٢۔ تشريح : الْحَجْرُ فِي ذَلِكَ: حجر کے لغوی معنی ہیں روک دینا اور اصطلاحی معنے ہیں مالی تصرف کرنے میں کسی پر حکما پابندی عائد کر دینا۔ ایسی پابندی دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جس میں مال والے کی بھلائی مقصود ہو کہ وہ اپنے مال کو ضائع نہ کر بیٹھے اور دوسری قسم کی پابندی میں غیر کی بھلائی ۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۸۶ ) یہ پابندی -------- چار صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ اول: نابالغ جور شد کو نہ پہنچا ہو۔ دوم: ایسے کم عقل پر جو مالی تصرف میں نابلد ہو۔ سوم : شرابی مجنون اور فضول خرچ پر جو اپنا مال ضائع کر رہا ہو جبکہ مدیون یا مقروض یا مرتین یا بحالت افلاس ہو اور ڈر ہو کہ اس کے اسراف سے دوسروں کا حق ضائع ہو جائے گا۔ چهارم: اسی طرح مریض پر جو قریب الموت ہو اور اندیشہ ہو کہ وہ مال میں ایسا تصرف کرنا چاہتا ہے کہ جس سے